اردو غزلیاتبشیر بدرشعر و شاعری

کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہو گی

اردو غزل از بشیر بدر

کہاں آنسوؤں کی یہ سوغات ہو گی
نئے لوگ ہوں گے نئی بات ہو گی

میں ہر حال میں مسکراتا رہوں گا
تمہاری محبت اگر ساتھ ہو گی

چراغوں کو آنکھوں میں محفوظ رکھنا
بڑی دور تک رات ہی رات ہو گی

پریشاں ہو تم بھی پریشاں ہوں میں بھی
چلو میکدے میں وہیں بات ہو گی

چراغوں کی لو سے ستاروں کی ضو تک
تمہیں میں ملوں گا جہاں رات ہو گی

جہاں وادیوں میں نئے پھول آئے
ہماری تمہاری ملاقات ہو گی

صداؤں کو الفاظ ملنے نہ پائیں
نہ بادل گھریں گے نہ برسات ہو گی

مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی
کسی موڑ پر پھر ملاقات ہو گی

بشیر بدر

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button