30 جون, 2020

    دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 جون, 2024

    درد کے بہانے سو

    یاس یاسمین کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    نظر میں طور رکھ اس کم نما کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 جنوری, 2020

    پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    15 جون, 2024

    تری جدائی میں یہ دل

    سید کاشف رضا کی ایک اردو غزل
    2 جولائی, 2021

    کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    15 نومبر, 2019

    ہو بہو تیرا سراپہ ہے مگر تو نہیں ہے

    سرفراز آرش کی ایک غزل
    20 مئی, 2020

    کبھی کبھی جو وہ غربت کدے

    ایک اردو غزل از احسان دانش
    20 فروری, 2026

    گریہ زاری کے لیے اور دہائی کے لیے

    عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل
    22 اکتوبر, 2019

    دھوم تھی اپنی پارسائی کی

    الطاف حسین حالی کی اردو غزل
    1 جنوری, 2023

    خواب مجھ کو نہ دکھایا جائے

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی ، نئی دہلی
    18 جولائی, 2021

    درد دل کو مرے نمو کرکے

    غضنفر غضنی کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2020

    بڑے تاجروں کی ستائی ہوئی

    اردو غزل از بشیر بدر
    12 جنوری, 2025

    یوں تو آنکھوں کو ترے خواب

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    30 دسمبر, 2019

    کچھ بھی ہو ، خوئے یار سے ہٹنے کی خو نہ ہو

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button