8 جون, 2024

    اندھیری رات ظالم نظام

    غلام عباس ساغر کی ایک اردو غزل
    23 اکتوبر, 2019

    اب کسی سے مرا حساب نہیں

    جون ایلیا کی ایک غزل
    23 مئی, 2020

    آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    5 مارچ, 2020

    وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

    دانش نقوی کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2020

    مجھے سوچنے دے

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    22 مئی, 2020

    کلفت جاں سے دور دور، رنج و ملال سے جدا

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    21 مئی, 2020

    ابتداء اور انتہا تها میں

    ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    20 ستمبر, 2020

    ہم تو قائل ہی نہ تھے

    شاہد عباس ملک کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2025

    ہم اپنی دھن میں مگن لوگ

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    تیغ لے کر کیوں تو عاشق پر گیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 جون, 2020

    حسن گلشن میں فرق کیا آیا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    15 دسمبر, 2024

    اس طرح خواب سفینے کا مزا لیتا ہوں

    خالد ندیم شانی کی ایک اردو غزل
    21 جنوری, 2020

    ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے

    مومن خان مومن کی ایک عمدہ غزل
    27 نومبر, 2019

    ہنس کے فرماتے ہیں

    امیر مینائی کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button