- Advertisement -

کینوس پر چہرے اور میں

از قاسم خورشید

شروعِ سفر میں لگاتار حادثوں کے حصار میں رہا، سمجھ نہیں پارہا تھا کہ بچپن کب شروع ہوتا ہے، سن بلوغت کی کیا اہمیت ہے یا پھر والدین کے سائے میں کس طرح سکون کا احساس ہوتا ہے۔ دراصل کم عمری میں باپ کی شفقت سے محروم ہونے، زمینداری کے مٹتے ہوئے نقوش کے درمیان شرافت کے لبادے میں اوڑھی ہوئی مفلسی کو دیکھ کر عجیب کیفیت میں مبتلا ہو گیا۔ ہوا تیز تھی اور چراغوں کو بھی روشن رہنا تھا۔ زمین اور آسمان کے درمیان سوالوں کا لامتناہی سلسلہ تھا۔ بار بار حضرت ابراہیم ؑ کی اس روایت پر ایمان لانے کی خواہش ہوئی کہ جب آسمان کی طرف نگاہ اٹھتی، سورج کو پہلی بار دیکھتا، اور اس کی روشنی سے سارے عالم کو منور ہوتا ہوا محسوس کرتا تو اُسے اپنا خدا مان لینے کی خواہش ہوتی۔ مگر یہ سلسلہ بھی دن کی روایت کے ساتھ ختم ہو جاتا۔ مایوسی، ڈوبتے ہوئے سورج اور گہری ہوتی ہوئی شام کے سائے میں ایک بار پھر ابھرتی اور چند لمحوں بعد پھر میں آسمان پر بکھرے ہوئے ستاروں کو دیکھ کر اپنے خدا کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا۔ مگر یہ کیا! کہ لگاتار تیرہ دنوں کی تگ و دو کے بعد آسمان پر مکمل چاند نمودار ہو گیا، تو پھر اس میں ہی اپنے خالق کو، اپنے رہنما کو تلاش کرنے لگا۔
مجھے یاد ہے کہ جب میرے والد کو قبر میں اُتار کر آخری دیدار کے لیے لوگوں کو بلایا گیا تھا تو کسی نے مجھے بھی گود میں اٹھا کر ان کا دیدار کروایا تھا۔ اس وقت قبر میں اُتارنے والے شخص نے مجھ سے یہ کہا تھا کہ ’’دیکھ لو بابو! اب تمھارے ابّو کبھی نہیں آئیں گے‘‘۔ میری سمجھ میں اس وقت یہ بات نہیں آئی تھی اس لیے فرمانبردار بچے کی طرح حامی میں سر ہلا دیا تھا۔ مگر جب واقعی ابّو کئی مہینوں تک نہیں لوٹے اور شامِ غریباں طویل ہوتی رہی، ایسے میں لوگ غم سے نڈھال ہو کر سو جاتے تو ایک روز مَیں چپکے سے آنگن کی چھت کے نیچے اُولتی کی اُوٹ میں چھپ کر دیر تک آسمان کو دیکھتا رہا۔ پھر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میرا بچپن آسمان سے مخاطب ہو کر گڑگڑاتے ہوئے کہنے لگا کہ اے اللہ! مجھے معلوم ہے، تُو آسمان پر رہتا ہے، میرے ابّو کو تو نے بلا لیا ہے۔ میرے گھر کے سب لوگ بہت غمگین ہیں، تُو انھیں بھیج دے۔ میری دعا سن لے۔ اور جب یہ دعا قبول نہیں ہوئی تو ایک روز پھر میں نے آسمان کے خدا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے ابّو کی تمھیں بہت زیادہ ضرورت ہے تو انھیں رکھ لے مگر مجھے جلدی سے بڑا کر دے تاکہ میں ا بّو کی طرح سارے گھر کا بوجھ اٹھا سکوں، سب کی آنکھوں میں خوشیاں بھر سکوں۔ مگر یہ دعا بھی قبول نہیں ہوئی بلکہ اذیتوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔ بچپن کھو گیا اور ہر لمحہ میلوں تک پھیل گیا۔ وقت کی لمبی اسیری اور پربت کاٹ کر راستے گڑھنے کا عمل شروع ہو گیا۔ حقیقتیں بے اماں ہوتی رہیں۔سورج، چاند، ستارے ایک ایک کر کے سب میری رہنمائی سے قاصر ہوتے رہے۔ میرا تو حضرت ابراہیم ؑجیسا کوئی رہنما بھی نہیں تھا تو پھر تھک ہار کر اپنے اندر ہی کسی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔ کہاں شفقتیں، کہاں محبتیں، کہاں کامیابیاں، کہاں خوشیاں، کہاں لوگوں کی توجہ کا مرکز، کہیں کچھ بھی تو نہیں تھا۔ مگر ایک جذبہ بار بار مجھے وسعتیں عطا کر رہا تھا اور وہ تھا تخلیقی کرب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ نہ جانے کیا کچھ میرے اندر ایک بیج سے پیڑ اور پھر پیڑ سے تناور درخت بننے کے عمل میں تھا اور اذیتوں کے درمیان ہی شاخیں ہری ہو رہی تھیں بلکہ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ انہیں کے سائے میں میری تخلیقی کائنات بتدریج وجود میں آرہی تھی۔ میں نقشِ فریادی اور شوخیِ تحریر کے معنیٰ کو سمجھنے کی کوششوں میں مشغول ہو چکا تھا۔ یہ تو عجیب دنیا تھی۔ اسے سمجھنے کے لئے ایک کیا ہزاروں زندگیاں بھی کم تھیں۔ میں نے اپنے جوان باپ کی موت دیکھی تو یہ احساس شدید رہا کہ ہمارے پاس بہرحال طبعی زندگی بہت کم ہے۔ اور جہاں تک روح کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنی دسترس میں نہیں۔ مگر جو کچھ بھی ملا ہے، اسے کوئی معنیٰ ضرور عطا کرنا ہے۔ دورانِ سفر میرے ہاتھ میں ایک قلم آیا۔ پھر خود کو لکھ کر حرف حرف آشنا ہونے لگا۔ کبھی اندر کے اداکار نے دنیا کے اسٹیج سے اپنے ناظرین کو متوجہ کیا کبھی پینٹنگ کے ذریعہ اپنے جذبات کی ترجمانی میں لگ گیاتو کبھی خاموش رہ کر خواب بُنتا رہا۔ خیر! مجھے اس حقیقت کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا کہ واقعی یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا۔ بلکہ ہم جو راہیں بناتے ہیں اس کے دعویدار بھی لگاتار ہمارا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ کئی بار اپنی بنائی ہوئی زمین پر یزیدی لشکروں کو قبضہ کرتے ہوئے دیکھا۔ ایسا نہیں کہ میں ان سے کمزور تھا مگر اپنی وسعتوں یا نیاآسمان گڑھنے کی وجہ سے ہم نے اپنی زمینوں کو ان کے حوالے کر دیا۔ یوں تو دادی اماں سے سنی ہوئی کہانیوں میں اپنے کرداروں کو شامل کرتا رہا یا پھر ان کہانیوں کی تخلیقیت سے اپنی دنیا روشن کی۔ اور نہ جانے کب؟ شاید اس وقت جب محض اسکول سے فارغ ہوا تھا، میں نے پہلا افسانہ ’روک دو‘ تخلیق کیا۔ افسانہ شائع ہونے کے بعد جب بے حد پذیرائی ہوئی تو میرے اندر مزید اعتماد پیدا ہوا اور پھر اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا۔ ہاں، میں نے کبھی فورم کو اتنی زیادہ اہمیت نہیں دی جتنی کہ تخلیقیت کو۔ یہی وجہ تھی کہ متن کے حوالے سے میں جس فارمیٹ میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتا، بہ آسانی ڈھل جاتا۔ اسی لئے جہاں افسانے لکھتا رہا وہیں ڈرامے، فیچر اور غزلیں، نظمیں بھی تخلیق کرتا رہا۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر لوگ صنف سے فنکار کا تعین کیوں کرتے ہیں ؟ غالب جیسے بڑے شاعر کے نثری کارناموں، یا شیکسپیئر کی نظموں اور ان کے ڈراموں یا پھر احمد ندیم قاسمی اور ایسے ہی دنیا کے بڑے تخلیق کاروں کو کیا کسی ایک صنف میں طبع آزمائی کے لئے جانا پہچانا جاتا ہے؟ اصل میں یہ سوال ان کے لئے زیادہ اہم ہو سکتاہے جو اپنے متن کو ضرورت کے مطابق مختلف اصناف میں ڈھالنے کے اہل نہیں ہوتے ہیں۔ اس لئے میں خود کو محض افسانہ نگار یا شاعر یا ڈرامہ نگار کہلانے کے لئے تگ و دو کرنے سے قاصر رہا بلکہ اپنے متن یا Content کے حوالے سے ہی لوگوں کی توجہ کا طالب رہا۔ جن کا وژن وسعتوں پر مبنی ہے انہوں نے ہمارے اس جذبے کی بے حد پذیرائی کی بلکہ میرے اعتماد کو اصناف کے حوالے سے بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ ظاہر ہے کہ ایسے میں خود کو منوا لینا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا ہے۔ خصوصی طور پر اردو ادب کے لئے یہ مشکل ترین مرحلہ تھا۔ مگر یہاں بھی بہرحال ذہانت کی کمی نہیں رہی ہے اسی لئے میں خاموشی سے جو کچھ بھی لکھتا، ہند و پاک کے بڑے رسائل کے حوالے کر دیا کرتا۔ میرے افسانے سب سے پہلے ہند و پاک کے مختلف ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ بعد میں بہار نے مجھے قومی یا بین الاقوامی رسائل کے توسط سے ہی پہچانا۔ ممکن ہے اگر لوگ میری عمر یا ایک معمولی شخص کی سماجی حیثیت سے واقف ہو جاتے تو تخلیقی ادب میں وہ اہمیت نہیں ملتی۔ اس لئے تخلیق کاروں کے لئے سب سے ضروری ہے کہ وہ اپنی تخلیق کو بہت اعتماد کے ساتھ زمانے کے سامنے پیش کریں۔ دنیا کی کوئی بھی بڑی لابی یا ادب کی سیاست انھیں دیر تک نہیں روک سکتی۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ بہت سارے تجربے ہیں، بہت ساری یادیں ہیں۔ شاید انہیں سمیٹ پانا میرے لئے ممکن بھی نہیں کیوں کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ بے ترتیب سوچ سے ابھری ہوئی کائنات ہے۔ ظاہر ہے مجھے بہتوں کا بے لوث پیار بھی ملا۔ پذیرائی بھی ملی اور خاطرخواہ ہمت افزائی بھی۔ میں یہاں یہ ذکر ناگزیر سمجھتاہوں کہ جب میں ترقی پسند ادبی تحریک سے فطری طور پر وابستہ ہوا تو ہمارے پیش نظر کارل مارکس، لینن، میکسم گورکی، نکولائی استرووسکی، پریم چند، ابراہیم جلیس، فیض احمد فیض، علی سردار جعفری اور ایسی ہی بہت ساری محترم شخصیتوں کے فکری اور تخلیقی کارنامے تھے۔ گورکی، نکولائی استرووسکی، پریم چند، سردار جعفری اور فیض کو پڑھنے کے بعد ترقی پسندی کا ایک ایسا چہرہ میرے سامنے تھا جو بہرحال کسی بھی جینوئن اور حساّس شخص کو متحرّک کرنے کے لئے ناگزیر تھا۔ بس ایک جنون میرے ساتھ ہولیا۔ ساری دنیا کے حالات میرے پیش نظر تھے۔ اب تو ایک خواب تھا، ایک ایسا خواب جہاں واقعی حاشیے پر پڑی ہوئی آبادی، خوش حالی و کامرانی کے پرچم لے کر نئی دنیا کی تعمیر میں جٹی تھی۔ حالانکہ ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستہ ہونے کے باوجود کبھی کمیونسٹ پارٹی کا ممبر نہیں رہا۔ اور یہ میرے لئے ضروری بھی نہیں تھا کیوں کہ ہمارے پاس ہماری زندگی کا سب سے بڑا صحیفہ قرآنی کلمات کی شکل میں موجود تھا۔ دراصل یہ وبا جو پھیلائی گئی تھی کہ مذہب افیون ہے، اس سے دور رہا جائے، تو اس کے پیچھے کچھ مقاصد تھے۔ اور شاید بعض تحریک کے چہرے کے مسخ ہونے کا خطرہ بھی تھا۔ چاہے وہ ترقی پسند تحریک ہی کیوں نہ ہو۔ کیوں کہ یہ تحریک ہمیں جو پیغام دینا چاہ رہی تھی۔ دراصل وہ پیغام تو بہت پہلے قرآن حکیم کے حوالے سے دیا جا چکا ہے۔ اگر کمیونزم مزدوروں کے فلاح کی بات کر رہی تھی یا امن کی بات کر رہی تھی یا انسانیت کی بقا کی کوشش کر رہی تھی یا ایک عالم کو خوشنما دیکھنا چاہتی تھی، تو یہ اور ایسے سارے پیغامات قرآنی صحیفے میں پہلے سے موجود ہی تھے۔ کیا یہ بات نہیں کہی گئی تھی کہ ’ مزدوروں کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ان کی مزدوری ادا کر دی جائے۔‘ کیا کمیونزم کبھی اس کی مخالفت کرسکتا تھا؟ دراصل ایسے ہی صحیفوں سے فلسفے مستعار تھے، ان ہی وجوہات کی بنا پر اپنے چہرے کو کھوتا ہوا محسوس کرنے کی وجہ سے مذہب کو افیون کہا گیا۔ مگر یہ تو طے تھا کہ دنیا میں اپنی بہت ساری خامیوں کے باوجود ترقی پسند تحریک سے زیادہ کوئی تحریک انسانی زندگی کے فروغ میں معاون ثابت نہیں ہو سکی۔ میں بھی خود کو اس سے کیسے الگ کرسکتا تھا۔ میرے لئے تو معاملہ یہ بھی تھا کہ میں نے زمیندارانہ قدروں کا زوال دیکھا تھا۔ گھر اور گھر سے باہر پھیلی ہوئی مفلسی دیکھی تھی۔ نا انصافیوں کا لامتناہی سلسلہ دیکھا تھا۔ استحصال کی لمبی راتیں دیکھی تھیں۔ ظاہر ہے میرے لئے صرف یہی تحریک مشعلِ راہ ہو سکتی تھی۔ میں نے طالب علمی کے زمانے کی جدوجہد کے دوران پورے انہماک اور دیانتداری کے ساتھ زمینی سطح پر اس تحریک کے فروغ کے لئے ہر ممکن کاوش کی۔ تجربے، مشاہدے میرے ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ میں نے بہار میں ’اِپٹا‘ (IPTA) کو دوبارہ متحرک کرنے کا شرف حاصل کیا۔ کالج، ٹیوشن اور عارضی جائے اماں کے درمیان صبح سے دیر رات تک سفر میں رہا۔ کبھی کبھی تو کئی راتیں کوئیلری کے مزدوروں کے درمیان گزارتا رہا۔ مجھے یاد ہے کہ غیر منقسم بہار کے جھریا، کتراس گڑھ، دھنباد کے علاقے میں مزدوروں کے بیچ نکّڑ ناٹک کیا کرتا تھا۔ انہیں متحرّک کرنے کی کوششوں میں مشغول رہا۔ وہاں زندگی کے کئی رنگ دیکھے۔ کئی کہانیاں بھی ملیں۔ کہانی ’اندر آگ ہے‘ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔ وہاں یہ معلوم ہوا تھا کہ ہر مزدور اپنی جھونپڑی کے سامنے ایک پنجرے میں مینا کیوں پالتا ہے۔مینا ہی تو زمین کے اندر پھیلنے والی آگ کا پتہ دیا کرتی تھی۔ ہم نے اپنے احساس کو اس چڑیا سے جوڑ کر دیکھا۔ تحریک میرے اندر اور شدت سے اترتی گئی۔ کہاں آگ ہے، اس کی تلاش کرنے لگا۔ گاؤں کو سچ مچ ہماری ضرورت تھی۔ مزدوروں، کسانوں، بے بسوں کے بیچ خود کو پاکر ایسا محسوس ہوا کرتا تھا کہ اصل ہندوستان تو انہیں میں بسا ہے۔ ان کے درمیان میری شخصیت کی تعمیر بھی ہوئی۔ اور ملک کے بڑے ترقی پسندوں نے میری بڑی ہمت افزائی کی۔ ان میں محمد حسن، قمر رئیس، اے کے ہنگل، کیفی اعظمی، کنہیا جی اور ایسے ہی کئی مشاہیر تھے۔ میں جب کبھی دلی جاتا تو قمر رئیس سے ضرور ملتا۔ وہ ہمیں اس تحریک کے حوالے سے باخبر کرتے۔ ان کی شفقتوں سے میرا حوصلہ بڑھتا۔ اور میں خود کو مزید فعال بنانے میں لگ جاتا۔ افسانے لکھتا رہا۔ شاعری کرتا رہا۔ اردو ہندی کے مشاہیر کی سرپرستی بھی رہی۔ محمد حسن جیسے دیانت دار دانشور نے تو میرے افسانے ’پوسٹر‘ اور ’حربہ‘ کو عصری ادب میں نمایاں جگہ دی ساتھ ہی انہوں نے ایڈیٹوریل میں ان افسانوں پر خاطر خواہ گفتگو کی۔ یہ وہ دور تھا جب میرا تخلیقی سفر شروع ہوا تھا میں اسی اعتماد کے تحت رسائل کو تخلیقات بھیج دیا کرتا اور بہت اہتمام کے ساتھ لوگ انہیں شائع بھی کرتے تھے۔ شاید یہ ایک بڑی وجہ تھی کہ مجھے کبھی کسی نقّاد یا مشاہیر سے لکھوانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ مجھے کبھی مخصوص مفاد کے تحت کسی لابی میں شامل ہونے کی ضرورت ہی درپیش نہیں آئی۔ ہاں، میں سبھوں کو ان کی اہلیت کے اعتبار سے قدر کی نگاہ سے دیکھتا رہا۔ پڑھے لکھے اور پراعتماد دانشوروں نے بارہا اپنی سطح پر میری تخلیقات کے حوالے سے نہ صرف یہ کہ بہت کچھ لکھا بلکہ ذاتی گفتگو میں بھی بڑی ہمت افزائی کی۔
مجھ پر نام نہاد اردو سیاست کا اثر اس لئے نہیں پڑا کہ میں شروع سے ہی بتدریج اردو کے ساتھ ہندی رسائل میں بھی شائع ہوتا رہا۔ ظاہر ہے اس سے مجھے موضوعاتی اور فکری سطح پر بہت پھیلنے کا موقع ملتا ر ہا۔ اردو کے ساتھ ہندی کے عصری ادب میں بھی اسی اہتمام کے ساتھ تخلیقات شائع ہوتی رہیں۔ میں نے نقاد/مبصر کے حلقے کو کبھی زیادہ ترجیح نہیں دی کیوں کہ میرے لئے میرا قاری یا سامع ہی سب سے معتبر رہا ہے۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہمارے ادب میں اپنے اثر و رسوخ یا لابی کی وجہ سے جن تخلیق کاروں نے جگہ بنائی ہے یا جن پر مشاہیر سے بہت کچھ لکھوایا گیا ہے وہ انعام و اکرام سے تو نوازے گئے یا مخصوص حلقے نے انہیں جانا بھی۔ مگر ان کے پاس گورکی، پریم چند، منٹو، کرشن چندر، بیدی یا پھر غالب، شیکسپیئر، اقبال، فیض، احمد فراز جیسے قارئین و سامعین کبھی نہیں ملے۔ اس بھرم کو دور کرنے کے لئے آج کے نام نہاد اثر ورسوخ رکھنے والے تخلیق کاروں کو چاہئے کہ وہ کسی مجمع میں جا کر دانشور قارئین سے ہی سہی اچانک پچھلی یا بیچ کی صف میں بیٹھے ہوئے کسی سامع کو اٹھا کر بھری محفل میں یہ سوال کریں کہ از راہِ کرم آپ یہ بتائیں کہ آپ نے میری کون سی تخلیق پڑھی ہے؟ اور اس تخلیق میں کچھ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے؟ اگر ان میں یہ حوصلہ ہو جائے تو ممکن ہے خوداحتسابی کا مقصد پورا ہو جائے۔ قمررئیس، احمد فراز، محمد حسن، انتظار حسین، جانکی ولبھ شاستری، ندا فاضلی، شہریار، بیکل اتساہی، نامور سنگھ، رویندر راج ہنس، وہاب اشرفی اور ایسے ہی بزرگوں سے اس موضوع پر میں نے بارہا گفتگو کی اور وہ مجھ سے متفق بھی ہوئے تھے کہ ہمارے پاس نقاد تو ہے، مبصر تو ہے، کتاب تو ہے، عہدہ تو ہے، اثر و رسوخ تو ہے مگر سچا قاری کہاں ہے؟ کہاں کھو گیا ہے ان کا قاری، کس بھرم میں کھو گئے ہیں وہ لوگ، کس بات کے لئے انہیں انعام و اکرام سے نوازا جا رہا ہے۔ وہ کس منہ سے ’ کعبہ‘ جانا چاہتے ہیں ؟ یہ حال صرف ادب کا نہیں ہے۔ تحریک کی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ترقی پسند ادبی تحریک کے لئے زمینی سطح پر کام کرنے کے بعد جب دھول میں اَٹے ہوئے چہرے کیچڑ میں سَنے ہوئے پاؤں کے ساتھ میں قمررئیس کے دولت کدے پر پہنچا اور ان سے یہ سوال کیا کہ یہ جو لندن میں ترقی پسندوں کی ادبی کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس میں ہندوستان کے جو ترقی پسند شامل ہو رہے ہیں کیا ان میں بیشتر کا تعلق ترقی پسندی کی اصل روح سے کبھی رہا ہے؟ کیا گاؤں کی سوندھی مٹی یا مزدوروں کے پسینے سے ابھرنے والی کسی شخصیت کو اس کانفرنس میں جانے کی اجازت نہیں ہے؟ میں نے ان سے یہ بھی کہا تھا کہ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح ترقی پسند اصولوں کے تحت زمینی سطح پر اس تحریک کے لئے کام کر رہے ہیں کیا ہمیں لندن کی شفاّف دھرتی پر احترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ قمر رئیس صاحب کے ساتھ لندن یا روس کے سفرمیں ہم جیسے لوگ کبھی نہیں رہے، ہو بھی نہیں سکتے تھے۔ کیوں کہ ہمارے یہاں پروفیسروں کی ایک الگ لابی ہے جو ترقی پسندی، جدیدیت یا انتہا پسندی یا مابعد جدیدیت کے رومانی تصور کے ساتھ وابستہ رہی۔ ہم تو جذباتی استحصال کے لئے پیدا ہوئے ہیں اور یہی وجہ بھی رہی ہے کہ ہمارے یہاں ایسی تحریکوں نے دھیرے دھیرے اپنا اثر کھو دیا۔ آج جو ترقی پسندی ہے وہ دراصل ہماری رگوں میں صرف اس لئے رچی بسی ہے کہ یہ نجی تجربے اور مشاہدے پر مبنی ہے۔ ہم تو اپنی تحریروں، تقریروں کے حوالے سے اب بھی وہی کہتے ہیں جو دنیا کا کوئی بھی ترقی پسند شخص کہتا ہے یا کہہ سکتاہے۔ ہاں بزرگوں کے چہروں کو ہم نے جس طرح دیکھا تو اکثر یہ شعر بھی ذہن میں گونجتا رہا کہ
چھوڑو تم انقلابِ زمانہ کا تذکرہ
وہ اور تھے جو حرفِ مقدر بدل گئے
مگر آج بھی کچھ ایسے دیوانے لوگ ہیں جن کی وجہ سے انسانیت کا احترام کیا جاتا ہے۔ جن کی وجہ سے محنت کو واقعی بلند مقام حاصل ہے۔ محمد حسن جیسے لوگ آج بھی زندہ ہیں۔ اور انہوں نے کبھی نام نہاد ترقی پسندوں سے بھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں بھی حاشیے پر رہنے میں کسی نے کسر باقی نہ چھوڑی۔
ہم اگر چاہیں تو فرداً فرداً اپنے افسانے پر گفتگو کرسکتے ہیں۔ لیکن میں اسے ضروری نہیں سمجھتا کیوں کہ قاری کو انھیں اپنی پسند ناپسند کے حوالے سے ہی دیکھنا چاہئے۔ میں خود کو خوش نصیب تصوّر کرتا ہوں کہ اگر کسی نے ایک بار پورے انہماک کے ساتھ مجھے پڑھ لیا تو اسے کہیں نہ کہیں ہماری تخلیقات میں اپنے ہونے کا احساس ضرور پیدا ہوتا رہا ہے۔ میں نے اب تک اپنے ہزاروں قارئین اور سامعین سے باتیں کی ہیں۔ انہیں غور سے سنا ہے۔ میں نے ان کو ہی اپنی تخلیقی زندگی کا بہترین اثاثہ تصور کیا ہے۔ میرے قارئین میں لفظ لفظ جوڑ کر پڑھنے والا قاری بھی ہے اور اپنے تخیلات سے، اپنے فکری مشمولات سے دنیا کو متاثر کرنے والا تخلیق کار و نقاد بھی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی مشاعرے میں جب میں نے اپنا کلام پیش کیا اور سامعین نے اس کی بے حد پذیرائی کی ساتھ ہی میڈیا نے بہت احترام کے ساتھ مجھے پیش کیا تو احمد فراز جیسا بین الاقوامی شاعر بھی اپنے جذبات نہیں روک سکا۔ انہوں نے مشاعرے کے بعد مجھ سے تفصیلی گفتگو کی تھی۔ میں ششدر تھا کہ احمد فراز نے بحیثیت افسانہ نگار ہند و پاک کے رسائل کے توسط سے مجھے پڑھا تھا اور پوسٹر، کِنّی کا راجکمار، اندر آگ ہے، سباّ رو نہیں سکتی، درد گزرا ہے دبے پاؤں اور آشرم جیسا افسانہ انہیں یاد تھا۔ ان افسانوں میں پیش کردہ کردار ان کے ذہن میں محفوظ تھے۔ احمد فراز نے بتایا تھا کہ تمہاری شاعری میں ایک واضح تصور ہے۔ بھرپور تخلیقیت ہے اور شاید تمہارے افسانوں کا نقطۂ عروج بھی تمہارے اشعار میں جا بجا موجود ہے۔ اس کے بعد بھی وہ بہت کچھ کہتے رہے مجھے یاد بھی نہیں۔ کیوں کہ ایک عالم گیر شخصیت مجھ جیسے ادنیٰ سے تخلیق کار کی پذیرائی کر رہی ہو تو پھر ماحول سحر زدہ ہو ہی جاتا ہے۔ پھر احمد فراز سے ادبی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ گفتگو ہوتی رہی۔ کیا معلوم تھا کہ احمد فراز جب آخری بار پٹنہ آئے تو انہوں نے یہ شعر سنایا تھا کہ
ہم اس کے شہر میں ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں
وہ لمبے سفر پر چلے تو گئے مگر مجھ جیسے معمولی سے تخلیق کار کو اعتماد کی وسیع تر زمینیں عطا کر گئے۔ اسی طرح ایک اور واقعہ ہے کہ عہد ساز فکشن نگار انتظار حسین کو جب ہندوستان میں پریم چند فیلو شپ کے لئے منتخب کیا گیا تو وہ سفر کے دوران پٹنہ بھی تشریف لائے یہاں کے ہوٹل موریہ میں ٹھہرے۔ مجھ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو میں خود کو بے حد خوش نصیب تصور کرنے لگا۔ ہوٹل کے کمرے میں ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ میں نے گفتگو کا ذکر مختلف اخبارات کے توسط سے کر بھی دیا ہے۔ عصری افسانے پر گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا تھا کہ پریم چند جیسے فکشن نگار کے پاس آج بھی اس کے قارئین کا بڑا حلقہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم جو لکھنے والے لوگ ہیں انہیں زندہ تو صرف ہمارے قارئین ہی رکھ سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سو سال سے زیادہ کا طویل وقفہ گزر چکا ہے اور پریم چند کی معنویت برقرار ہے۔ چونکہ پریم چند پر میں نے بہت کام کیا ہے۔ اس لئے انتظار حسین کے سامنے مؤدبانہ لہجے میں یہ موقف ظاہر کیا تھا کہ ہمارے یہاں تنقید کی صورت حال عجیب رہی ہے لوگ قاری سے نہیں بلکہ نقاد سے پوچھ کر اپنا موقف ظاہر کرتے ہیں۔ پریم چند نے یوں تو بہت ساری کہانیاں لکھیں۔ ’کفن‘ بھی ان کی عمدہ کہانی ہے۔ مگر میری نظر میں وہ ان کی سب سے خوبصورت کہانی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس کا پہلو آفاقی نہیں ہے۔ بلکہ ’پوس کی رات‘ جیسی کہانی میں احساس اور متن کی سطح پر زیادہ آفاقیت ہے۔ انتظار حسین نے نہ صرف یہ کہ میری بات سے متفق تھے بلکہ انہوں نے بتایا کہ میں برسوں سے یہی سوچ رہا ہوں اور پورے دلائل اور حقائق کے ساتھ ’پوس کی رات‘ کو ہی پریم چند کی سب سے اعلیٰ تخلیق مانتا ہوں۔ یہاں میرا صرف یہ کہنا مقصود ہے کہ ہم جیسے لوگوں کی فکر اگر مشاہیر سے ملتی ہے تبھی وہ فکر بڑی کیوں ہوتی ہے؟ انتظار حسین جیسا عظیم ترین تخلیق کار ایک ذمہ دار قاری کی حیثیت سے بھی تو سوچ سکتا ہے۔ یہاں یہ تصور واضح ہو جاتا ہے کہ اگر ہم اپنے وژن اور اپنی فکر کے ساتھ کسی بھی تخلیق پر سوچیں اور اپنا بے باک تبصرہ پیش کریں تو ممکن ہے کہ ہمارے دائرے کے وسیع ہونے کے اور بھی امکانات روشن ہو جائیں۔
احمد یوسف شریف النفس افسانہ نگار تھے۔ میرے افسانوی مجموعے ’پوسٹر‘ پر ایک شام کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی صدارت کرتے ہوئے احمد یوسف نے کہا تھا کہ ’پوسٹر جیسا افسانہ کبھی کبھی سرزد ہوتا ہے۔‘ معروف نقادپروفیسر محمد حسن نے عصری ادب کے ایڈیٹوریل میں بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ احمد یوسف صاحب سے میں نے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ کیا افسانہ بھی کسی الہامی کیفیت کے تحت عمل میں آتا ہے؟ تخلیقی بیانیہ کے ساتھ تو یہ معاملہ ہو سکتا ہے۔ لیکن افسانے پر اگر الہامی کیفیت طاری ہو جائے تو ممکن ہے کہ کہانی کہیں ڈوب جائے۔ میں تخلیقی بیانیہ کو بہت احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ کیوں کہ اگر کسی تخلیق کار کو یہ وصف حاصل ہو جاتا ہے تو پھر اسے کوئی بھی چاہ کر مٹا نہیں سکتا۔ اور اس کا یہ عمل اس کے فطری فنکار ہونے کی غمازی بھی کرتا ہے۔مگر کہانی کے لئے کچھ بڑی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اور وہ ہے قاری سے کہانی پن کی سطح پر رشتے کا استوار ہونا۔ ’پوسٹر ‘میرے لئے محض الہامی کیفیت کا نام نہیں ہے بلکہ زمین سے ابھری ہوئی حقیقتیں اس کہانی کا ماخذ ہیں۔ میں کہہ چکا ہوں کہ اردو ہندی اور دوسری زبانوں کے عصری ادب میں اس کہانی کا شامل کیا جانا میرے لئے یقیناً باعث صد افتخار رہا ہے۔ لیکن اس کہانی سے ایک دلچسپ کہانی بھی وابستہ ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ جب ’پوسٹر‘ میری شناخت کے ساتھ جڑ گئی تو ایک نام نہاد لابی کو یہ سب کچھ ناگوار سا لگنے لگا۔ اس لابی نے ایک جونیئر کہانی کار کو کھڑا کیا اور اس سے ’پوسٹر‘ کے عنوان سے ہی ایک کہانی لکھوائی۔ عالمی عصری ادبیات سے میری کہانی کو انڈر ٹون کرنے کی غرض سے یہ عمل کیا گیا تھا اور بجائے میری اس کہانی کا ذکر کرنے کے اس نئے افسانہ نگار کی پوسٹر کا ذکر کچھ دنوں تک جاری رہا۔ مگر میری کہانی اتنی دور تک پھیل چکی ہے کہ وہ خود میری دسترس میں بھی نہیں رہ گئی ہے۔ اب ذرا سوچئے کہ جہاں ادب میں ایسا عامیانہ عمل کیا جاتا ہو وہاں قاری سے زیادہ نام نہاد تخلیق کاروں پر کس طرح بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ کچھ لوگ اپنے کمپلکس میں ہی تمام عمر گزار دیتے ہیں۔ مگر مجھے ندا فاضلی کا یہ شعر ہمیشہ رہنمائی کرتا رہا ہے کہ
شائستہ محفلوں کی فضاؤں میں زہر تھا
زندہ بچے ہیں ذہن کی آوارگی سے ہم
ندا فاضلی سے قربت کی ایک بڑی وجہ یہ رہی ہے کہ ان کے افکار نے بھی میری بڑی رہنمائی کی ہے۔ ہم نے کبھی صلے کی پرواہ نہیں کی۔ کبھی کسی سے کوئی توقع نہیں رکھی۔ کبھی اپنے احساس کے زخموں کو مندمل نہیں ہونے دیا۔کبھی خوش فہمیوں کے حصار میں نہیں رہا۔ کبھی کسی کی تعریف یا کسی کی سازش سے خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوا بلکہ دانستہ طور پر بھی نادانی اوڑھے رہا۔ ہمارے کچھ تخلیق کار میرے مضامین کی ہمیشہ پذیرائی کرتے رہے ہیں۔ خصوصی طور پر میرے تخلیقی بیانیہ کو با وقار تصور کرتے رہے۔ ان کی ہمیشہ یہ خواہش رہی کہ میں ان کی تخلیقات پر اظہار خیال کروں۔ میں نے ایسا کیا بھی۔ اور اتنا کچھ لکھا ہے کہ کم سے کم دو ضخیم مضامین کے مجموعے بھی شائع ہو سکتے ہیں۔ میرا ہمیشہ یہ ماننا رہا ہے کہ چاہے تیسرے درجے کی بھی تخلیق ہو وہ بہرحال احترام کی نگاہ سے دیکھی جانی چاہئے کیوں کہ اس سے بہتر یا مقدس کوئی عمل ہوہی نہیں سکتا ہے۔ لوگ تنقید کی زنگ آلودہ تلواروں سے ایسی تخلیقات پر ضرب لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے لوگوں سے یہ بتایا کہ نقاد ہونا بہت مشکل ہے او ر خصوصی طور پر تخلیق کا نقاد ہونا۔ کیوں کہ نقاد اگر تخلیق کار سے بہتر تخلیق پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو پھر اسے حق حاصل ہے کہ وہ اس تخلیق پر منفی رائے بھی دے سکے۔ اگر اس کے اندر ایسی صلاحیت نہیں ہے تو پھر اس کی حالت اس وکیل سے زیادہ نہیں ہوتی جو قتل کے جھوٹے مقدمے میں اپنے دلائل اور حقائق سے قاتل کی جیت کے لئے راہیں ہموار کر دیتا ہے۔ آج ہماری تنقید اسی لئے بے اثر ہو گئی ہے کہ پہلے سے بنے بنائے ہوئے اصولوں پر ہم تنقید کی عمارت تعمیر کر رہے ہیں یا پھر کسی سے مرعوب ہو کر توصیفی کلمات سے نوازنے کے لئے مجبور ہیں۔ میں نے اشارہ کیا ہے کہ تیسرے درجے کی تخلیق بھی میرے لئے ہمیشہ محترم رہی ہے۔ میں نے پوری عرق ریزی کے ساتھ ان پر لکھا بھی ہے۔ لیکن یہ حوصلہ ان تخلیق کاروں میں کبھی نہیں رہا کہ وہ میری تخلیق کے حوالے سے کم از کم اپنی نجی گفتگو کو بھی قلم بند کرا دیں۔ ظاہر ہے اس میں مصلحت پسندی کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ تخلیق کار آزاد ہوتا ہے۔ نجی محفلوں میں اگر میرے لئے فضا ہموار ہے تو پھر وہ وہاں لبیک کہتا ہے یا ناہموار ہے تو وہ میرا بڑا ناقد بھی بن جاتا ہے۔ میرے لکھنے کا فائدہ تو بہتوں کو ہوا۔ چاہے انعام و اکرام کا معاملہ ہو یا اپنی ادبی دکان کو سجانے سنوارنے کا معاملہ ہو، میرے مضامین نے یقینا ان کے مقاصد کی تکمیل میں اہم رول ادا کیا لیکن میرا حال تو یہ ہوا کہ
میں تو غزل سنا کے اکیلا کھڑا رہا
سب اپنے اپنے چاہنے والوں میں کھو گئے
یہ جس آوارگی کا ذکر میں نے کیا ہے دراصل اس نے میری بڑی رہنمائی کی ہے۔ اور میں اسے اپنی زندگی کا موقف بھی مانتا ہوں۔ اسی لئے ادب یا زندگی میں اگر کوئی شخصیت بتدریج ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے بہت کم وقت میں سماجی یا ادبی سروکار کے بغیر کوئی مقام حاصل کر لیتی ہے اور وہ اپنی بلندیوں سے ہماری پستیوں کو دیکھ کر زیرِ لب مسکراتی ہے تو مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ کاش! ان کی سیڑھیاں ہمارے ہاتھوں میں نہیں ہوتیں۔ کاش! میرا ذہن انہیں پستیوں کا پتہ دے پاتا۔ چونکہ ان کی بلندیاں بے حسی اور کم مائیگی پر ٹکی ہوتی ہیں۔ اس لئے وہ ہماری دی ہوئی زمین کی خودمختاری کے بھرم جال میں بھی گرفتار رہتے ہیں۔
نئی نسل میں جو بیداری پیدا ہوئی ہے اگر اسے مستقبل میں بھی جائے اماں ملی تو میرا دعویٰ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی لابی غیر جینوئن افراد کو بے جا بلندیوں تک نہیں پہنچا سکے گی۔ میں اس سلسلے میں یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ مسقط یونی ورسٹی سے انگریزی کے نئے نقاد پروفیسر افروز اشرفی نے عالمی ادبیات کے حوالے سے اردو فکشن پر کام شروع کیا۔ انہوں نے بہت سارے ترجمے کئے۔ اردو کے بھی اور دوسری زبانوں کے بھی۔ انہیں روایتی ڈھنگ سے مجبور کرنے کی کوشش کی گئی کہ اردو کے جو فکشن نگار نیوز میں ہیں اور بعض وجوہات کی بنا پر حوالوں میں ہیں۔ ان کی تخلیقات کے ہی تراجم کئے جائیں۔ پروفیسر افروز چونکہ عالمی ادبیات پر نظر رکھتے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے وژن کے ساتھ یہ کام شروع کیا۔ اسی دوران انہوں نے میری کہانی بھی پڑھی۔ انہیں ’اندر آگ ہے‘ کے علاوہ میری دوسری کئی کہانیاں پسند آئیں اور پھر ایساہوا کہ انہوں نے میری ساری کہانیاں پڑھ ڈالیں۔ ہندوستانی ادب کی کہانیوں سے ان کا تقابلی مطالعہ بھی کیا اور پھر اس نتیجے پر پہنچے کہ قاسم خورشید کی پندرہ منتخب کہانیوں پر مشتمل ایک کتاب انگریزی میں ترتیب دی جائے۔ ساری کہانیوں کے ترجمے انگریزی میں ہوئے اور پھر انہیں دنیا کے بڑے انگریزی پبلشر کے حوالے کر دیا تاکہ کتاب شائع ہو کر منظر عام پر آ جائے۔ یہاں یہ ذکر اس لئے ناگزیر ہے کہ پروفیسر افروز اشرفی نے دراصل میری کہانیوں کا انتخاب اس لئے بھی کیا کہ وہ عصری عالمی فکشن کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ پیش کرسکیں۔ یہ کام بہرحال پرانا نقاد نہیں کرسکتا تھا۔ کیوں کہ وہ پرانی تحریروں کے حوالے سے ہی اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ہمارے ایسے نام نہاد نقاد کہتے ہیں کہ نئے تخلیق کاروں کو خود اپنا نقاد پیدا کرنا چاہئے یا خود اپنا نقاد ہو جانا چاہئے۔ میں ان کا احترام کرتا ہوں اور یہ مشورہ دیتا ہوں کہ نیا فنکار تو اپنی دنیا خود تلاش کر ہی لے گا اب واقعی پرانی تحریروں کو روایتی انداز میں پڑھنے کی کسی کو فرصت بھی کہاں ہے؟
بعض ایسے نقاد ضرور ہیں جو وقت کی آہٹوں کو صاف طور پر سن رہے ہیں۔ انہیں احساس ہے کہ گزشتہ بیس پچیس برسوں میں دنیا میں خاصی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ظاہر ہے ہمارا ادب بھی اس سے الگ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کلاسیکی روایات کی زمین پر نئے ادب کی آبیاری کو محسوس کرتے ہوئے اپنے موقف میں صحت مند تبدیلی لائی ہے۔ ان میں گوپی چند نارنگ، وہاب اشرفی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ نارنگ اور وہاب اشرفی نے مابعد جدیدیت کے حوالے سے نئے ادب پر خاطر خواہ بحث کرتے ہوئے وہ اپنا واضح تصور پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادبیات میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے کماحقہ اردو والے واقف ہو رہے ہیں۔ چونکہ گوپی چند نارنگ نے ہر دور میں نئے ادب کو پیش نظر رکھ کر یہ کوشش کی ہے کہ اردو کی نئی عالمی بستیاں کس طرح آباد ہو سکتی ہیں۔ اس میں اپنے آپ کو وسعت دینے کی ضرورت تھی ساتھ ہی کسی خوش فہمی کے بغیر ادب گڑھنے پر زیادہ زور دینا تھا۔ نارنگ سے ہزار اختلافات کے باوجود لوگ اردو میں نئے میلانات پر ان کی آراء کو ہی معتبر تصور کرتے ہیں۔ وہاب اشرفی نے جب مابعد جدیدیت کے حوالے سے اردو ادب کے رجحانات پیش کرنے کی کوشش کی تو اس میں تخلیقات کا بڑا حصہ نئے ادب سے مستعار ہے۔ میری کہانی ’سائمن باسکی‘ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’قاسم خورشید کی ’سائمن باسکی‘ مجھے آج بھی گرویدہ کئے ہوئے ہے۔ پہلے میں نے اسے محض مزدوروں کے استحصال کی کہانی کے طور پر پڑھنے پر بس کیا تھا لیکن تاثر دیرپا تھا۔ اب جب کہ قاسم خورشید کا افسانوی سفر کافی آگے بڑھ گیا ہے۔ اس کہانی کی سماجی اور تہذیبی معنویت مزید گہری ہو گئی ہے۔ یہ کہانی مزدوروں کی پسپائی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں شکستہ حالات میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ ختم نہیں ہوتا۔ یہ وہی روشنی کی کرن ہے جسے مابعدجدیدیت اپنانا چاہتی ہے‘‘۔ اسی طرح نامور تخلیق کار انور سدید نے جب میری کہانی ’کنی کا راجکمار‘ کا مطالعہ کیا تو انہیں شدّت سے یہ احساس ہوا کہ نئی کہانی اب موضوعات اور ہیئت کی سطح پر اپنی الگ کائنات گڑھ رہی ہے۔ اس کہانی میں حسّیت کو لے کر انور سدید نے نئے نکات پیش کئے۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ قاسم خورشید اس موضوع کو جس طرح برتنے کی کوشش کی ہے یہ ان کا ہی حصہ ہے۔ بظاہر جو موضوع عام طور پر ہماری دسترس میں نہیں ہوتا قاسم خورشید پوری فنی چابکدستی کے ساتھ نہایت موثر انداز میں اس پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ مشاہیر کی آراء کا سلسلہ بھی خاصا طویل ہے۔بس جو کچھ یاد آیا اس کے ساتھ ہولیا۔
حالانکہ ہندوستان کی سلطنت سے بہت دور ایک چھوٹے سے گاؤں کاکو سے اپنا سفر شروع کرتے ہوئے پٹنہ پہنچا اور اسی خرابے میں رہ کر ساری دنیا میں اپنی تخلیقات کے حوالے سے جانا پہچانا گیا۔سچ ہے کہ میرے پاس میری تخلیق کے سوا کبھی کوئی سرمایہ نہیں رہا۔ اگر بڑے تخلیق کار کا خانوادہ ہوتا، دولت ہوتی، اوبلائز کرنے والا عہدہ ہوتا یا ہندوستان کی راجدھانی میں بسا ہوتا تو ممکن ہے ہماری تخلیقات کی جو پذیرائی عوامی سطح پر ہوئی اس کا خاطر خواہ صلہ بھی مل جاتا۔ دلّی تو ایسا شہر ہے جہاں ساری دنیا کے ادبائ، شعرائ، محقق، مدبّر سبھی تشریف لاتے ہیں اورلوگ ان سے خاطر خواہ استفادہ بھی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ مگر چھوٹے شہروں یا گاؤں کے ادیبوں و شاعروں کا المیہ رہا ہے کہ انہیں تب تک خواص میں قبولیت کا شرف عطا نہیں ہوتا جب تک وہ مکتوبی ادیب یا ترسیل کے دوسرے ذرائع سے ہمیشہ خواص کی توجہ اپنی طرف مبذول نہ کرواتے رہیں۔ ہمارے یہاں یوں تو بہت کچھ بہتر لکھا گیا ہے لیکن پروجکشن نہیں ہونے کی وجہ سے دوسرے اور تیسرے درجے کے ادب اور ادیبوں کا دور دورہ رہا ہے۔ مجھے اب بھی صلے کی پرواہ نہیں ہے لیکن ادب کے نام پر اگر واقعی منصفانہ فیصلے کئے جانے لگے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ بہتر ادب اور ادیبوں کو ان کا مناسب مقام مل سکے گا۔ یہ کام جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ کیوں کہ اب کسی کو یہ فرصت نہیں ہے کہ وہ جینوئن تخلیق کار کی تلاش میں سرگرداں ہو اور تمام مصلحتوں سے دور ہٹ کر ان کے صحیح مقام کا تعین کرسکے۔ اپنے قارئین کی لگاتار محبتوں کا میں اسیر رہا ہوں۔ اس لئے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا کہ ہماری تخلیقات ضائع ہوئی ہیں۔ اپنے پڑھنے والوں کے مشورے اور لگاتار کہانیوں پر گفتگو کے بعدیہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہواکہ موجودہ عہد اور مستقبل کے لئے ان کہانیوں کا انتخاب پیش کیا جائے جو موضوعات، پیش کش، ہیئت اور متن کی وجہ سے کافی مقبول رہی ہیں۔ میں اعتماد کے ساتھ یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ میری کہانیوں سے گزرنے کے بعد کوئی بھی حساس دل یقیناً مجھے اپنے دل کے کسی گوشے میں ضرور جگہ دے سکے گا۔ کہانیوں کی بڑی تعداد ہے۔ انتخاب بھی مشکل ہے۔ لیکن میرے لئے یہ کام یوں آسان ہو گیا کہ قارئین یا معتبر ناقدین نے جن کہانیوں کو نگاہ انتخاب میں رکھا میں نے ایسی ہی کہانیاں پیش کی ہیں۔ اب میں یہ نہیں کہتا کہ تمام تر کہانیاں اپنی مخصوص شدت کی وجہ سے ہر قاری کو متحرک کریں گی مگر یہ اعتماد ہے کہ میرا کوئی افسانہ ریڈیبلیٹی کی سطح پر کسی بھی قاری کو ضرور متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گا۔
اردو کہانیوں کے حوالے سے اکثر یہ رائے قائم کر لی جاتی ہے کہ یہاں موضوعات کا تنوّع نہیں ہے جبکہ انگریزی، ہندی، بنگلہ اور دوسری زبانوں میں جو کہانیوں لکھی جا رہی ہیں، ان کے موضوعات کا فلک بہت طویل ہے۔ میں بھی بہت حد تک یہ اعتراف کرتا ہوں کہ نہ جانے کیوں اردو کہانیوں میں نئے موضوعات کے برتنے میں وسعت قلبی سے کام نہیں لیا جاتا ہے ایسامعلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم نے روایت سے انحراف کیا تو ممکن ہے اس کا خاطر خواہ اثر نہ ہو پائے۔ نفسیاتی سطح پر ایسا سوچنا اردو مزاج کے عین مطابق بھی ہے۔ بہتوں نے یہ ہمت دکھائی کہ انگریزی یا ہندی فکشن میں جس تنوع کے ساتھ تخلیقات پیش کی جارہی ہیں ان کی پیروی کی جائے۔ مگر اردو میں منتقل ہونے کے بعد ایسا ادب یا تو رپورٹ بن کر رہ گیا یا پھر محض فنتاسی سے تعبیر کیا گیا۔
دراصل تخلیقی ادب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے قاری یا سامع کو متحرک کرسکے۔ متحرک کرنا بھی بہت عرق ریزی کا کام ہے۔ اس لئے موضوعات کے برتنے میں نہایت دیانتداری کے ساتھ اس آنچ کا ہونا ضروری ہے جسے ہم فطری طور پر محسوس کرنے کے اہل ہوں۔ میں اپنی کہانیوں کے حوالے سے بھی کوئی دعویٰ پیش نہیں کرتا لیکن لگاتار ہندی اور اردو میں لکھتے اور پڑھتے رہنے سے کم از کم یہ ضرور ہوا کہ وسیع تر حلقہ ملا۔ بہت سی فرسودہ روایتیں خود بخود پیچھے چھوٹ گئیں۔ ترسیل کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا۔ چاہے کسی بھی مذہب فرقے یا مسلک سے تعلق رکھنے ولا قاری ہو، اسے کہیں نہ کہیں میری کہانیوں میں اپنے ہونے کا احساس زندہ ہوتا رہا ہے۔ پوسٹر، اندر آگ ہے، سائمن باسکی، وہ لڑکی، کِنّی کا راجکمار، کاہے راکھے سائیاں، آشرم، روگ، میاّ، سباّ رو نہیں سکتی، رات، پھانس، باگھ دادا، حربہ، کوئی ہاتھ، کشن پور کی مسجد یا ایسی دوسری تمام کہانیوں کا بغور مطالعہ کریں گے تو شاید مجھے بھی احساس ہو گا کہ میں نے پورے اعتماد کے ساتھ تخلیقی شدت کے پیش نظر ہی موضوعات کو برتنے کی کوشش کی ہے۔ اور کہیں ایسا نہیں معلوم ہو گا کہ خود کو دہرا رہا ہوں۔ میں ایسا اس لئے بھی کہہ رہا ہوں کہ اب تک جو تاثرات ملے ہیں، مجموعی اعتبار سے ایسی ہی باتیں، کہی گئی ہیں۔ ان افسانوں کا انتخاب بھی میں نے نہیں کیا ہے بلکہ اس عمل میں دانشوروں اور انہماک سے مطالعہ کرنے والے قارئین کے فیصلے کا ہی دخل ہے، تخلیقی ادب کا کوئی خاص مقام کبھی متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے کہ یہ تو لامتناہی سلسلہ ہے اور شاید بے منزل کی تلاش بھی ہے۔ زندگی کے کینوس پر کئی ایسی تصویریں ہیں جو میرے وجود کا حصہ ہیں۔ میں اپنی تنہائیوں میں انھیں جینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس عمل میں کوئی جستجو ہی مجھے حوصلہ عطا کرتی ہے۔ ہاں یہ ضرور سوچتا ہوں کہ دوران سفر اوروں میں منتقل ہو جاؤں اور یہ گمان بھی باقی نہ رہے کہ
؎
جستجو ہو تو سفر ختم کہاں ہوتا ہے
یوں تو ہر موڑ پہ منزل کا گماں ہوتا ہے

قاسم خورشید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
بزمِ مصنّفین ہزارہ