12 نومبر, 2019

    اپنی ہی صدا سنوں کہاں تک

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    19 مارچ, 2020

    رات پھر تیری آغوش میں روشنی کا سفر

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    8 اپریل, 2016

    کجا ہستی بتا دے تو کہاں ہے

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2020

    پربتوں کی چوٹی پر

    فیصل ہاشمی کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    جانے کس دشت کا آزار ہو کل ساتھ مرے

    سعید خان کی اردو غزل
    26 جون, 2020

    ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    22 اپریل, 2020

    ہمیں پتہ نہیں چلتا مگر پکارتے ہیں

    ڈاکٹر کبیر اطہر کی ایک اردو غزل
    8 جنوری, 2020

    وہ جن کے نقش قدم

    سلیم کوثر کی ایک اردو غزل
    4 مارچ, 2025

    جب بھی نیزے کی

    ماہ نور رانا کی ایک اردو غزل
    27 فروری, 2017

    قبر پر وہ بتِ گل فام آیا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    15 اگست, 2020

    کیا کھویا کیا پایا کچھ بھی یاد نہیں

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    22 جون, 2020

    ماضی میں ہیں اب نہ حال میں ہم

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    1 جنوری, 2023

    خواب مجھ کو نہ دکھایا جائے

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی ، نئی دہلی
    30 جون, 2020

    جب نسیم سحر ادھر جا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 جنوری, 2020

    جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button