20 جون, 2020

    نہ سہی ساز غم ساز تو ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    بود نقش و نگار سا ہے کچھ

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 دسمبر, 2019

    چاک دامن کو جو دیکھا تو ملا عید کا چاند

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    15 مارچ, 2026

    نشاط نو کی طلب ہے نہ تازہ غم کا جگر

    اکرام اعظم کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    نظروں میں اُس نے مجھ سے

    میر حسن کی اردو غزل
    27 اپریل, 2020

    جفا و جور کا اس سے گلہ کیا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    مری شکست ترا امتحاں نہ بن جائے

    قیصرالجعفری کی ایک اردو غزل
    18 ستمبر, 2022

    ہزار زخم بدن پر لیے حیات رہے

    جاوید مہدی کی ایک اردو غزل
    8 نومبر, 2025

    ایسا نہیں کہ ہار نہیں جانا چاہئیے

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    بولے منہ سے نہ مسکرائے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    13 جون, 2020

    دل پہ دار و مدار ہے اپنا

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    8 مارچ, 2026

    پھٹی مشکیں لیے دن رات دریا دیکھنے والے

    فقیہ حیدر کی ایک اردو غزل
    3 جولائی, 2025

    خوشی مستقل ہے نہ غم

    غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
    18 نومبر, 2020

    آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    24 جون, 2020

    مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ

    داغ دہلوی کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button