اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

بولے منہ سے نہ مسکرائے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

بولے منہ سے نہ مسکرائے
آئے مرے غمگسار آئے

دامن بھی نہ ہو جسے میسر
زخموں کو وہ کس طرح چھپائے

عنوان حیات بن گئے ہیں
جو تیری نظر نے گل کھلائے

ہے فرصت زہر خند کس کو
پھولوں کو صبا نہ گدگدائے

زخموں کو وہ چھیڑتے ہیں باقیؔ
لب پر کوئی بات آ نہ جائے

باقی صدیقی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button