23 اپریل, 2020

    کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے

    جواد شیخ کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2020

    انعام یافتہ بھی خطاوار بھی ہوا

    ایک اردو غزل از بلال اسعد
    15 مئی, 2020

    جو زندگی تھی آج کل وہ زندگی نہیں رہی

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    14 نومبر, 2021

    سمجھ میں آتے جو دل کے معاملات اُسے

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
    12 جون, 2020

    مداوائے آلام ہو جائے گا

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    بتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    20 جون, 2020

    بات کو جرم ناسزا سمجھے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2025

    نکلے تھے کسی مکان سے ہم

    احمد مشتاق کی ایک اردو غزل
    6 جولائی, 2025

    تمھارے عہد و پیماں

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    2 نومبر, 2025

    جہاں جہاں سے بھی جھلمل

    شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل
    21 جنوری, 2020

    شاید مجھے کسی سے محبت

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    سیر مانند صبا کیجے گا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    3 جنوری, 2020

    مرد ہو، عشق سے جہاد کرو

    جوش ملیح آبادی کی ایک اردو نظم
    13 نومبر, 2025

    بوڑھا تھا مگر عین جوانی میں کھڑا تھا

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    4 جنوری, 2020

    کہیں تو گرد اُڑے

    گلزار کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button