22 مئی, 2020

    آسماں کوئی جو تا حد نظر کھولتا ہے

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    25 اکتوبر, 2025

    یہ جو منظر میں تابانی ہے بھائی

    عدنان سرمد کی ایک اردو غزل
    25 فروری, 2025

    بھرے ہیں دم جو

    شہزین فراز کی ایک اردو غزل
    12 جنوری, 2025

    ہم نے مل کر جناب لوگوں سے

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    7 مئی, 2022

    بھائی بچھڑے تو بس ہچکیاں رہ گئیں

    راکب مختار کی ایک اردو غزل
    20 ستمبر, 2020

    کسی دوپہر میں تری گھڑی

    سرفراز آرش کی ایک اردو غزل
    27 اپریل, 2025

    اس راہ محبت میں تو آزار ملے ہیں

    ایک غزل از حکیم ناصر
    12 جنوری, 2020

    دن کچھ ایسے گزارتا ہے کوئی

    گلزار کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    آغشتہ خون دل سے سخن تھے زبان پر

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 مارچ, 2022

    ہاتھوں میں کشکول اُٹھا کر رقص کیا

    ایک اردو غزل از عمر اشتر
    9 نومبر, 2025

    نا مکیں یہاں کے ہم

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    تھا میسر نہ ایک تار ہمیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 اپریل, 2025

    عشق کر کے دیکھ لی

    ایک مشہور غزل از حکیم ناصر
    10 جنوری, 2026

    دل ڈوبنے لگا ہے توانائی چاہیئے

    آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
    9 اپریل, 2023

    تلخ لہجے سے اپنے مارتے ہو

    تسلیم اکرام کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button