15 اپریل, 2020

    ہر طرف حد نظر تک سلسلہ پانی کا ہے

    ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل
    8 اپریل, 2020

    دریا وہ کہاں رہا ہے جو تھا

    ایک اردو غزل از ادریس بابر
    4 اپریل, 2020

    یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2024

    تجھ کو غیروں سے

    یوسف عابدی کی ایک اردو غزل
    18 جنوری, 2020

    ذوق سب جاتے رہے

    اردو غزل از الطاف حسین حالی
    10 اکتوبر, 2025

    فریاد بن گئے کبھی خاموش رہ گئے

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    20 فروری, 2026

    ویرانی کے بادل چھانے لگ گئے ہیں

    عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    کوئی ان کی خبر نہیں آتی

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    13 دسمبر, 2019

    نشے میں چاند تارے جھوم کر سَر دُھن رہے ہیں

    سعد ضؔیغم کی ایک اردو غزل
    10 اکتوبر, 2025

    تاج نے تخت نے بغاوت کی

    فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    تم کو کیا ہر کسی سے ملنا تھا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    15 مارچ, 2026

    گِلہ تو آپ سے ہے اور بے سبب بھی نہیں

    سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2021

    جب ساتھ چراغوں کے، پرچھائیاں چلتی ہیں

    ایک اردو غزل از سیّدہ منوّر جہاں منوّر
    23 اپریل, 2022

    ختم کر دی رہی سہی تم نے

    ایک اردو غزل از شہلا خان

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button