21 جون, 2020

    ترے حضور ہوں، فکر حیات ہے پھر بھی

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    دم بہ دم اس ڈھب سے رونا دیر کر آیا ہمیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 دسمبر, 2019

    فضائے نیم شبی کہہ رہی ہے سب اچھا

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    27 مئی, 2020

    منظر سے اُدھر خواب کی پسپائی سے آگے

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    28 مئی, 2024

    دل تباہ کو اب تک نہیں یقیں آیا

    فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    آیا ہے ابر جب کا قبلے سے تیرا تیرا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    1 جنوری, 2022

    ہم غیر سمجھتے اسے ایسا بھی نہیں خیر

    ایک اردو غزل از حمیدہ شاہین
    27 اپریل, 2025

    مےکشی گردش ایام سے

    ایک غزل از حکیم ناصر
    9 اپریل, 2023

    تلخ لہجے سے اپنے مارتے ہو

    تسلیم اکرام کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    جس سمے تیرا اثر تھا مجھ میں

    احمد خیال کی اردو غزل
    21 جنوری, 2020

    سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوجائے گا

    اردو غزل از بشیر بدر
    13 جون, 2020

    چراغِ تعلّق بجھا دینے والے!

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    15 جون, 2024

    جہاں کی ضد ہے

    سہیل صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2024

    کسی سے اور تو کیا

    امید فاضلی کی ایک اردو غزل
    29 جون, 2026

    جو اپنے یار سے درخواست کرنا

    شاہین فصیح ربانی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button