3 دسمبر, 2019

    رنگ بدلا یار کا

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    27 جون, 2020

    اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز

    میر تقی میر کی ایک غزل
    25 نومبر, 2018

    سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

    احمد فراز کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2020

    مستقر جاوداں چراغوں کا

    سید کامی شاہ کی ایک اردو غزل
    24 جنوری, 2020

    بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے

    ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
    27 جون, 2020

    محبت نے کھویا کھپایا ہمیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 جون, 2020

    ہوتی ہے گرچہ کہنے سے یارو پرائی بات

    میر تقی میر کی ایک غزل
    20 نومبر, 2019

    آپکی یاد آتی رہی

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    19 فروری, 2026

    ختم ہوتے نہیں سفر میرے

    ایک اردو غزل از ڈاکٹر طارق قمر
    19 مئی, 2020

    نئے رواج اور روشنی کی بات ہو تو ہو

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    30 نومبر, 2021

    آس پر مر مٹے تھے سارے خواب

    کلیم باسط کی ایک اردو غزل
    18 نومبر, 2020

    اپنی الگ ہی سمت میں راہیں نکال کر

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    4 نومبر, 2025

    ہمیں ہی وہم تھا

    افضل شریف صائم کی ایک اردو غزل
    21 مارچ, 2020

    شام غم کی سحر نہیں ہوتی

    ابن انشا کی ایک غزل
    9 اپریل, 2023

    بس اک نگاہ کو یوں تیر کرنا چاہتی ھوں

    تسلیم اکرام کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button