13 جولائی, 2022

    جو نہ کارِ خیر میں گزرے کیا ہے زندگی

    شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    دم بہ دم اس ڈھب سے رونا دیر کر آیا ہمیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    22 جون, 2020

    خود کو لگتے ہیں اجنبی سے ہم

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    خود وقت میرے ساتھ چلا وہ بھی تھک گیا

    محسن نقوی کی اردو غزل
    8 جون, 2020

    تاج محل

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    15 دسمبر, 2019

    زرِ چراغ سرِ آب رکھ رہا ہوں میں

    ملک عتیق کی ایک غزل
    20 جون, 2020

    دل دھڑکتا ہے جام خالی ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    حالانکہ کام پہنچ گیا کب کا جاں تلک

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 جون, 2020

    کیا تو نمود کس کی کیسا کمال تیرا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    6 جولائی, 2025

    ہونے کا احساس

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    2 جنوری, 2020

    منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے

    ایک غزل از نوشی گیلانی
    23 مئی, 2020

    جُھومتی ، دف بجاتی ، گاتی موت

    صائمہ آفتاب کی ایک اردو غزل
    23 دسمبر, 2025

    بھٹکے ہوئے عالی سے پوچھو

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    25 جنوری, 2020

    ساقی نظر سے پنہاں

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    2 فروری, 2020

    جڑ کو خود کاٹنا پاتال پہ گریہ کرنا

    رانا عثمان احمر کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button