اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

تیری تصویر سے کروں باتیں

ناہید ورک کی اردو غزل

تیری تصویر سے کروں باتیں
ہائے ممکن نہیں ملاقاتیں
کوئی بھی رُت ہو میری آنکھوں میں
بیٹھ جاتی ہیں آ کے برساتیں
میرے ہر دن پہ چھائی رہتی ہیں
تیری دوری کی دُکھ بھری راتیں
بات مقسوم تھی یہی ورنہ
پیار میں ہے نَسَب نہ ہی ذاتیں
جیت تو میں گئی مگر ہمدم
اِس سے منسوب ہیں کئی ماتیں
ہارنے کو بچا نہیں کچھ اب
پھر بھی ہیں میری تاک میں گھاتیں

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button