اردو غزلیاتحمیدہ شاہینشعر و شاعری

ہم غیر سمجھتے اسے ایسا بھی نہیں خیر

ایک اردو غزل از حمیدہ شاہین

ہم غیر سمجھتے اسے ایسا بھی نہیں خیر

لیکن وہ کسی کا نہیں اپنا بھی نہیں خیر

جو سوچتے رہتے ہیں وہ کرنا نہیں ممکن

کرنے کے ارادے سے تو سوچا بھی نہیں خیر

شہرا ہے کہ رسوائی کی تصدیق ہے وہ شخص

شہرت کا بھروسہ کوئی ہوتا بھی نہیں خیر

کچھ بن کے دکھانے کی تمنا کا بنا کیا

اتنی سی تمنا میں تو بنتا بھی نہیں خیر

ہم اس کے لیے اپنی نظر میں برے ٹھہریں

اچھا ہے وہ اچھا بھئی اتنا بھی نہیں خیر

کچھ سینت کے رکھنے کا ہمیں شوق نہیں تھا

کچھ سینت کے رکھنے کے لیے تھا بھی نہیں خیر

گو ایک اذیت ہے ترا رنگ تغافل

یہ رنگ کسی اور پہ سجتا بھی نہیں خیر

اس شخص پہ تنہائی تو اترے گی بلا کی

جو ہے بھی نہیں خیر ہے لگتا بھی نہیں خیر

سب خیر ہو سب خیر ہو اے مجمع ظاہر

ہم بھیڑ کا حصہ نہیں تنہا بھی نہیں خیر

یہ خیر فقط لفظ نہیں فہم و یقیں ہے

جو خیر سمجھتا نہیں ہوتا بھی نہیں خیر

حمیدہ شاہین

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button