4 مارچ, 2025

    جب بھی نیزے کی

    ماہ نور رانا کی ایک اردو غزل
    11 مارچ, 2025

    دھند چھٹنے کے انتظار میں ہوں

    ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل
    14 اپریل, 2026

    لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    18 دسمبر, 2019

    ہے مشق سخن جاری چکّی کی مشقت بھی

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    4 مارچ, 2020

    قدرت کے امتحان سے لگتا ہے ڈر مجھے

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    26 اپریل, 2020

    عجیب طور کی ہے اب کے سرگرانی مری

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    22 مارچ, 2026

    اب پرندوں میں ڈر ہے خون نہیں

    راشد امام کی ایک اردو غزل
    2 مئی, 2020

    یوں خبر کسے تھی میری تری مخبری سے پہلے

    افروز عالم کی ایک اردو غزل
    29 جون, 2020

    بے مہر و وفا ہے وہ کیا رسم وفا جانے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 مئی, 2020

    چھائی ہوئی ہیں یاس کی گہری خموشیاں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    21 مئی, 2020

    نجانے عشق میں ایسی ہے کیا کمی باقی

    ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل
    12 جون, 2020

    سیر کرنے سے ہَوا لینے سے

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    جو سر پہ میرے دوپٹہ دکھائی دیتا ہے

    ایک اردو غزل از طلعت سروہا
    24 فروری, 2022

    چاکِ خیال جوڑ کے کچھ اور ہی بنا

    صابر رضوی کی ایک اردو غزل
    7 جنوری, 2020

    آلام روزگار کو آساں بنا دیا

    ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button