آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاکرم ثاقب

ڈیجیٹل عہد کی چمک دمک

از پروفیسر اکرم ثاقب

ڈیجیٹل عہد کی چمک دمک اور اسکرینوں کی مسحور کن روشنی کے پیچھے ایک ایسا عالمگیر نظام جڑیں پکڑ چکا ہے جس نے انسانی آزادی اور خود مختاری کے معنی ہی بدل کر رکھ دیے ہیں۔ ماضی کی سرمایہ داری زمین، کارخانوں اور مادی وسائل پر قبضے سے منافع کماتی تھی، لیکن اس نوآبادیاتی دور کی سب سے بڑی مہم جوئی انسان کا اپنا وجود، اس کے جذبات اور اس کے نجی تجربات بن چکے ہیں۔ انٹرنیٹ اور جدید مواصلاتی آلات کی دنیا میں جسے ہم ایک مفت سہولت سمجھ کر استعمال کرتے ہیں، وہ دراصل ایک بہت بڑی فکری اور نفسیاتی کنٹینرائزیشن ہے جہاں صارف خود ایک پروڈکٹ نہیں بلکہ وہ خام مال ہے جسے مسلسل کھود کر نکالا جا رہا ہے۔ انسان کے چوبیس گھنٹے کے معمولات، اس کی پسند و ناپسند، اس کی فکری ترجیحات اور یہاں تک کہ اس کے لاشعوری خوف کو بھی بائٹس اور ڈیٹا کی شکل میں تبدیل کر کے ایک ایسے خفیہ بازار میں منتقل کیا جا رہا ہے جہاں انسانوں کے مستقبل کے رویوں کی پیش گوئیاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا نیا معاشی افق ہے جہاں انسانی رویوں کا یہ ضرورت سے زیادہ بچ جانے والا ڈیٹا، جسے تکنیکی زبان میں رویوں کا سرپلس کہا جاتا ہے، عام شہریوں کی لاعلمی میں ان کے نفسیاتی پروفائل تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
یہ محض تجارتی منافع کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ طاقت کا ایک ایسا نیا بساط ہے جسے دنیا کے چند بااثر کارپوریٹ اور سیاسی نیٹ ورکس مل کر چلا رہے ہیں۔ ماضی کی آمریتیں انسانوں کو مطیع کرنے کے لیے لاٹھی، گولی اور جسمانی قید کا سہارا لیتی تھیں جس سے غلام کے اندر بغاوت کا جذبہ پیدا ہوتا تھا، لیکن اس جدید نگرانی کی سرمایہ داری کا سب سے بڑا ہتھیار انسانی رویوں میں خاموش ترمیم ہے۔ پیچیدہ الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت کے پردے میں چھپی یہ طاقت انسان پر تشدد نہیں کرتی بلکہ اس کے شعور پر اس شاطرانہ انداز سے اثر انداز ہوتی ہے کہ وہ اپنی قید کو ہی اپنی آزاد مرضی سمجھنے لگتا ہے۔ جب آپ کو کیا سوچنا ہے، کس خبر پر یقین کرنا ہے، اور کس نظریے سے متاثر ہونا ہے، یہ سب کچھ پسِ پردہ بیٹھے الگورتھمز طے کرنے لگیں تو پھر جمہوریت، انفرادی آزادی اور قومی خود مختاری صرف ایک وہم بن کر رہ جاتی ہے۔ قانون سازی اور عوامی فلاح کے نام پر بنائے جانے والے جدید ڈیجیٹل ضابطے دراصل اس غیر مرئی قید خانے کی دیواریں بلند کرنے کے مترادف ہیں جہاں ہر شہری کی نقل و حرکت اور سوچ کو ایک مرکزی کنٹرول روم کے تابع کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کی گہرائی کا اندازہ اس تاریخی حوالے سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن کمپنی نے اپنے ابتدائی دور میں یہ دریافت کیا کہ صارفین کی تلاش کے دوران پیچھے رہ جانے والا ڈیٹا صرف سروس بہتر کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ان کے مستقبل کے فیصلوں کی پیش گوئی کرنے کے لیے سونے کی کان کی حیثیت رکھتا ہے، تو وہیں سے اس پوشیدہ طاقت کا جنم ہوا جس نے آگے چل کر پوری دنیا کے سیاسی اور سماجی نظام کو ہائی جیک کر لیا۔
اس جدید ترین نوآبادیاتی نظام کا سب سے ہولناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسانی جبلت اور شعور پر براہِ راست حملہ آور ہے اور ایک ایسی جابرانہ قوت کو جنم دے رہا ہے جو انسان کو ہانکنے کے لیے مادی ہتھیاروں کی محتاج نہیں ہے۔ ایک اور معروف مثال اس وقت سامنے آئی جب دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورک نے اپنے کروڑوں صارفین کی نفسیاتی کمزوریوں اور پسند و ناپسند کا ڈیٹا ایک سیاسی مشاورتی کمپنی کو فراہم کیا، جس نے اس ڈیٹا کو مخصوص الگورتھمز کے ذریعے پروسیس کر کے ایک بڑی عالمی طاقت کے صدارتی انتخابات اور ایک بڑے یورپی اتحاد سے علیحدگی کے ریفرنڈم کے نتائج کو اپنی مرضی کے مطابق بدل کر رکھ دیا۔ یہ اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اب کارپوریٹ اشرافیہ ریاستوں کے اندرونی معاملات اور عوامی شعور کو دور بیٹھے کنٹرول کر رہی ہے۔ یہ نظام معاشروں سے گہرائی، فلسفیانہ سنجیدگی اور اپنے حقوق کے لیے حقیقی مزاحمت کا مادہ ختم کر کے انہیں صرف ایک ایسے چکر ویو پر بٹھا دیتا ہے جہاں زراعت، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی مسائل کو بڑی مہارت سے پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے اور عوام کو سطحی بحثوں کی ڈیجیٹل تسکین میں الجھا کر رکھا جاتا ہے۔ جب تک اس پسِ پردہ کارپوریٹ اشرافیہ اور ان کے وضع کردہ نیٹ ورکس کے اس شاطرانہ کھیل کو بے نقاب نہیں کیا جائے گا، تب تک دنیا حقیقی شعور اور آزادیِ رائے کے تصور سے محروم رہے گی۔ یہ دور ہمیں خبردار کرتا ہے کہ لوہے کی زنجیروں سے زیادہ خطرناک وہ ڈیجیٹل ہتھکڑیاں ہیں جو انسان خود اپنے ہاتھوں سے پہنتا ہے اور ان کے اندر مقید رہ کر اپنی آزادی کا جھوٹا جشن مناتا ہے۔

پروفیسر اکرم ثاقب

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button