28 جولائی, 2020

    ذکر میرا تو خیالات سے پہلے بھی تھا

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    29 مئی, 2020

    تمہارے وہاں سے یہاں آتے آتے

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    26 جون, 2020

    وہ جو کشش تھی اس کی طرف سے کہاں ہے اب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 اپریل, 2020

    زمیں کے چہرے پہ جب تلک

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    1 نومبر, 2025

    سفر آسان تھوڑی ہوتے ہیں

    عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل
    29 جون, 2020

    نفی کو قریۂ اثبات سے نکالتا ہوں

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    28 جون, 2020

    وہی شورش موئے پر بھی ہے اب تک ساتھ یاں میرے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 دسمبر, 2024

    دانشوروں کے بس میں

    قیصرالجعفری کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    بےسبب ہوتی نہیں افسردگی

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    11 نومبر, 2019

    لفظ جب منہ سے نکلتا ہے نظر آتا ہے

    ایک عمدہ غزل از سید عدید
    14 مئی, 2024

    آج تو اور کے سینے سے

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    8 مارچ, 2025

    کسی روشنی پہ بھی اعتماد

    ضمیر قیس کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    آغوشِ ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    15 دسمبر, 2019

    کبھی بدن کبھی بستر بدل کے دیکھا ہے

    ملک عتیق کی ایک غزل
    24 ستمبر, 2021

    میں اور تم

    طارق اقبال حاوی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button