27 جون, 2025

    جو شجر دیتا تھا سایہ

    محمد علی سوزؔ کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2024

    ہائے اک شخص جسے ہم نے

    امید فاضلی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    بو کیے کمھلائے جاتے ہو نزاکت ہائے رے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 جولائی, 2025

    کسی بھی کام سے پہلے

    محمد نعیم کی اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    عجیب کرب میں گزری

    محسن نقوی کی اردو غزل
    20 مئی, 2020

    کبھی کبھی جو وہ غربت کدے

    ایک اردو غزل از احسان دانش
    15 نومبر, 2020

    جو ادھر سے جا رہا ہے وہی مجھ پر مہرباں ہے

    اردو غزل از بشیر بدر
    26 نومبر, 2025

    بزمِ طرب میں بادہ و ساغر

    کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل
    27 جنوری, 2026

    ہم تجھ سے کس ہوس کی

    خواجہ میر درد کی ایک غزل
    19 نومبر, 2019

    جمع تم ہو نہیں سکتے

    ایک غزل از وصی شاہ
    18 دسمبر, 2019

    رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آج

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    16 جنوری, 2020

    دریا سے کوئی شخص

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    14 ستمبر, 2025

    دل خراب کے احکام ٹھیک لگنے لگے

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    22 مئی, 2024

    ہنسنے والے اب ایک کام کریں

    خمار بارہ بنکوی کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    نا مکیں یہاں کے ہم

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button