20 دسمبر, 2022

    اس سے ہی چلتی ہے

    عاصمہ فراز کی اردو غزل
    18 مارچ, 2026

    وہ موجِ تبسّم شگفتہ شگفتہ

    سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2024

    دل میں ہر آس کی تصویر

    سید محمد وقیع کی ایک غزل
    28 مئی, 2024

    برگ صدا کو لب سے اڑے

    فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل
    12 جنوری, 2025

    جب ان کو مرے اچھے برے کی

    فارحہ نوید کی ایک اردو غزل
    7 جنوری, 2020

    بارے دنیا میں رہو

    میر تقی میر کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2025

    یہ کس ترنگ میں ہم نے مکان بیچ دیا

    احمد مشتاق کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    زخم خوردہ سے ہیں

    بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2025

    وہ ہاتھ میرے ہاتھ سے

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    5 اگست, 2025

    جو میری سمت چا کر

    ایم اے دوشی کی ایک اردو غزل
    19 ستمبر, 2025

    میں کسے سنا رہا ہوں

    اعتبار ساجد کی ایک اردو غزل
    17 جون, 2020

    تم نہ مانو مگر حقیقت ہے

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    3 جنوری, 2020

    درد کی دیوار پر ٹانکی ہوئی تصویر ہے

    منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل
    13 جنوری, 2020

    نئی تہذیب سے ساقی نے ایسی گرمجوشی کی

    غزل از اکبر الہ آبادی
    18 دسمبر, 2019

    چھپ کے اس نے جو خود نمائی کی

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button