در ہوس پہ شرافت نے گھٹنے ٹیک دئے
غریب گھر کی ضرورت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہوس نژاد پروفیسروں نے ظلم کیا
کتاب چھوڑ کے عفت نے گھٹنے ٹیک دئے
سنا ہے آج کسی مافیا کی پیشی تھی
سنا ہے آج عدالت نے گھٹنے ٹیک دئے
قریب تھا کہ مرے حق میں بولتا انصاف
مقدمے کی سماعت نے گھٹنے ٹیک دئے
غلام دیکھ کے شہزادی نے سلام کیا
تو بادشاہ سلامت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہمارے دم سے محبت کا بول بالا تھا
ہمارے بعد محبت نے گھٹنے ٹیک دئے
ہماری پیار کی عادت نہیں گئی اکرامؔ
ہمارے سامنے عادت نے گھٹنے ٹیک دئے
اکرام عارفی








