- Advertisement -

خواب زدہ ویرانوں تک

مبشر سعید کی ایک اردو غزل

خواب زدہ ویرانوں تک
پہنچی نیند ٹھکانوں تک

آوازوں کے دریا میں
غرق ہوئے ہم شانوں تک

باغ، اثاثہ ہے اپنا
وہ بھی زرد زمانوں تک

بنچ پہ پھیلی خاموشی
پہنچی پیڑ کے کانوں تک

عشق عبادت کرتے لوگ
جاگیں روز اذانوں تک

کرنیں ملنے آتی ہیں
گھر کے روشن دانوں تک

زرد اداسی چھائی ہے
کھیتوں سے کھلیانوں تک

مبشّر سعید

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
مبشر سعید کی ایک اردو غزل