16 جنوری, 2020

    کلیوں کو نہال کر گئے ہم

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    20 اکتوبر, 2025

    ریزہ ریزہ خواب نہ ہوتے

    ثمر راحت ثمر کی ایک اردو غزل
    17 جنوری, 2025

    تماشہ

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    20 فروری, 2026

    مصائب کو چھپانا جانتا ہے

    عاجز کمال رانا کی ایک اردو غزل
    24 اپریل, 2020

    خواب اُس کے ہیں جو چُرا لے جائے

    ایک اردو غزل از رسا چغتائی
    17 نومبر, 2021

    خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے

    ایک غزل از منیر نیازی
    28 جون, 2020

    یک مژہ اے دم آخر مجھے فرصت دیجے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    20 جون, 2020

    ڈوب کر نبض ابھر آئی ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 اپریل, 2020

    اُس بزم میں ہر ایک سے کم تر نظر آیا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    18 اپریل, 2020

    کٹ رہی ہے زندگی درد کا سماں لیے

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    22 جون, 2020

    کیا ذوق ہے کہ شوق ہے سو مرتبہ دیکھوں

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    15 جنوری, 2020

    قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلانے آئے

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    جو کہو تم سو ہے بجا صاحب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 مئی, 2020

    انکی آنکھوں میں پا لیا خود کو

    ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    بنی تھی کچھ اک اس سے مدت کے بعد

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button