12 اکتوبر, 2025

    جنموں کی داستاں ہے

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    15 ستمبر, 2019

    وقت بے وقت یہ پوشاک مری تاک میں ہے

    ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل
    21 جنوری, 2020

    مرجھا کے کالی جھیل میں

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    درد سے میرے ہے تجھ کو بیقراری ہاے ہاے

    غزل از اسداللہ خان غالب
    25 مارچ, 2025

    ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ

    ایک غزل از منیر نیازی
    24 جون, 2020

    ناروا کہیے ناسزا کہیے

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    6 جنوری, 2023

    جس نے میرا دل دکھایا دیر تک

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    14 مئی, 2020

    سہنے کو ہجر جب بھی تمنا مزید کی

    طارق جاوید کی ایک اردو غزل
    14 ستمبر, 2025

    بدن کی قید میں رہ کر تمام تر کاٹو

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    رہیے بغیر تیرے اے رشک ماہ تا چند

    میر تقی میر کی ایک غزل
    30 جون, 2020

    جب نسیم سحر ادھر جا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 اگست, 2020

    دشت کی تیز ہواؤں میں بکھر جاؤ گے کیا

    لیاقت علی عاصم کی ایک اردو غزل
    15 جون, 2020

    یوں بھی کچھ وقت گزارا

    ذوالقرنین حسنی کی اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    26 جنوری, 2020

    جینے والی قضا

    ایک اردو غزل از شکیل بدایونی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button