22 جون, 2020

    غم بنا دے نہ تماشا ہم کو

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    ہچکیوں نے کسی دیوار میں در رکھا تھا

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    چمن میں جاکے جو میں گرم وصف یار ہوا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    2 مئی, 2020

    حصار دید میں روئیدگی معلوم ہوتی ہے

    ایک اردو غزل از افروز عالم
    29 جون, 2020

    درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    9 مئی, 2020

    ذرا سی دیر ٹھہر کر سوال کرتے ہیں

    اظہر فراغ کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2020

    جب ذرا ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا

    دو غزلہ از قلم سمیرؔ شمس
    21 مارچ, 2021

    پائل کبھی پہنے کبھی کنگن اسے کہنا

    تہذیب حافی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    نکتہ مشتاق و یار ہے اپنا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    11 مارچ, 2025

    مرے آنسو

    ایک اردو غزل از لتا حیا
    18 دسمبر, 2019

    بے انتہائی شیوہ ہمارا

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    21 مئی, 2020

    روشنی کا نشان چاہتے ہیں

    سعید خان کی اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    دل جلا کر بھی دلربا نکلے

    محسن نقوی کی اردو غزل
    20 مئی, 2020

    صرف اشک و تبسم میں الجھے رہے

    ایک اردو غزل از احسان دانش

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button