4 نومبر, 2020

    کہیں کچھ کم نہیں ہے ، تم نہیں ہو

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    12 نومبر, 2019

    پورا دکھ اور آدھا چاند

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    آستیں میں سانپ اک پلتا رہا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    برسوں میں کبھو ایدھر تم ناز سے آتے ہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    25 جون, 2020

    وہ شوخ ہم کو پائوں تلے ہے ملا کیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    24 جنوری, 2020

    دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    8 دسمبر, 2019

    کہاں سے ٹوٹی ہوئی ہوں مَیں

    ایک غزل از نجمہ کھوسہ
    11 اپریل, 2020

    ظلم مٹتا نہیں معافی سے

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    27 جون, 2020

    محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 دسمبر, 2025

    شاعر فطرت ہوں

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    19 اکتوبر, 2025

    وا چشم تماشا لب اظہار سلا ہے

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    وجود خاک سے باہر نکال دے گا وہ

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    31 دسمبر, 2019

    عجب مذاق رَوا ہے

    عمران عامی کی ایک اردو غزل
    17 جنوری, 2025

    غائب کیے جو وقت نے اوراقِ زندگی

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    20 جون, 2020

    ڈوب کر نبض ابھر آئی ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button