6 جولائی, 2025

    ہے ترے عشق کے

    سعید سعدی کی ایک اردو غزل
    31 دسمبر, 2021

    اسی پہ آنکھ ٹھہرتی ہے پیارا لگتا ہے

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    12 اکتوبر, 2025

    جنموں کی داستاں ہے

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    جاگنا تھا ہم کو سو بیدار ہوتے رہ گئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    10 جون, 2024

    فریبِ منصب و دستار سے نکل آیا

    ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل
    20 ستمبر, 2020

    ہم تو قائل ہی نہ تھے

    شاہد عباس ملک کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    تیرے ہوتے شام کو گر بزم میں آجائے شمع

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 نومبر, 2025

    دل میں شور برابر ہے

    احمد مشتاق کی ایک اردو غزل
    6 اپریل, 2026

    زینؔ گفتار و تصنع سے کدھر ہوتا ہے

    زین علی آصف کی ایک اردو غزل
    22 دسمبر, 2025

    بہت دنوں سے مجھے

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    2 نومبر, 2025

    نہیں کچھ اور تو اپنے قریں پہنچ سکتے

    شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل
    18 مارچ, 2026

    وہ یوں ملا کے بظاہر خفا خفا سا لگا

    سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل
    3 اپریل, 2026

    یہ مصلحت کے ڈھکوسلے

    ماوٰی سلطان کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    آپ کے دل سے نسبت سی ہونے لگی

    ناہید ورک کی اردو غزل
    8 اپریل, 2020

    اب مسافت میں تو آرام نہیں آ سکتا

    ایک اردو غزل از ادریس بابر

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button