10 جنوری, 2025

    ماہتابِ دلکشی

    شاکرہ نندنی کی ایک اردو غزل
    11 اکتوبر, 2025

    خمارِ عشق نے دل کو بھی مبتلا ہے کیا

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    یہ آگ آگ ہوائیں یہ سرخ سرخ زمیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی

    ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
    13 جولائی, 2022

    خامشی چیختی ہے غم کا بیاں ہوتا ہے

    شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
    29 دسمبر, 2024

    یہ خواب جو ہم سفر ہیں میرے

    قیصرالجعفری کی ایک اردو غزل
    17 اکتوبر, 2019

    سلا رہا تھا نہ بیدار کر سکا تھا مجھے

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    14 نومبر, 2021

    صورت ِخواب کوئی مجھ سے بغل گیر ہوا

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    25 اکتوبر, 2019

    یاد کا پھر کوئی دروازہ

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    18 دسمبر, 2019

    بس کہ نکلی نہ کوئی جی کی ہوس

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    15 اپریل, 2020

    مری نظر مرا اپنا مشاہدہ ہے کہاں

    ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل
    11 اکتوبر, 2025

    گلہ ہے وقت سے، اندازِ بے وفائی کا

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    رنگ دل، رنگ نظر یاد آیا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    29 اکتوبر, 2026

    ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

    میر حسن کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    بجز تمہارے کسی سے کوئی سوال نہیں

    ایک اردو غزل از قمر جلال آبادی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button