آپ کا سلاماردو غزلیاتثمر راحت ثمرشعر و شاعری

وہ جس دن سے ہمارا ہو گیا ہے

ثمر راحت ثمر کی ایک اردو غزل

وہ جس دن سے ہمارا ہو گیا ہے
سبھی کو جاں سے پیارا ہو گیا ہے

مری آنکھوں کی لو میں چلنے والا
وہ جگنو تھا ستارا ہو گیا ہے

جسے دنیا سمجھتی تھی بھنور ہے
سمندر کا کنارا ہو گیا ہے

شریک کارواں دامن سمیٹیں
کہ چلنے کا اشارا ہو گیا ہے

جلا ڈالا ہے اس ارمان کو جو
وہ شعلے سے شرارا ہو گیا ہے

ثمر راحت ثمر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button