8 جون, 2020

    خانہ آبادی

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    1 نومبر, 2025

    کرلیں جنھیں حکومت پوری کرنی ہے

    عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    کچھ اس طرح وہ مری زندگی کے پاس آئے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    13 جولائی, 2022

    حق کا پرچار کیے گزرے پیمبر اکثر

    شعیب شوبیؔ کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    حکمِ صیاد ہے تا ختم تماشائے بہار

    وہ نہ آئیں گے کبھی دیکھ کے کالے بادل
    12 جنوری, 2025

    کوئی بھی کام کاج ٹھیک نہیں

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    28 اکتوبر, 2020

    بیمار شخص کا بھی بھلا کیا وجود ہے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    26 جون, 2020

    شبنم سے کچھ نہیں ہے گل و یاسمن میں آب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 جون, 2020

    عشق کی رہ نہ چل خبر ہے شرط

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 نومبر, 2019

    دکھ درد میں ہمیشہ نکالے تمہارے خط

    ایک غزل از وصی شاہ
    4 اپریل, 2020

    یہ راستے میں جو شب

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    14 اکتوبر, 2025

    ذائقہ بدلیں گے کیف و وجد میں

    ایک اردو غزل از طارق قمر
    20 جون, 2024

    ہمیں تُو ہی ملا ہے بس ہمارا

    یوسف عابدی کی ایک اردو غزل
    11 نومبر, 2025

    اسکو جنون تھا کہ مجھے

    حارث بلال کی ایک اردو غزل
    9 دسمبر, 2019

    یہی تو بھول ہو گئی قطار میں نہیں رہے

    سعد ضؔیغم کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button