17 اگست, 2026

    زمانے میں رفاقت کی جو یہ رِیت و روایت ہے

    محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل
    17 جنوری, 2025

    بے سبب اچھے لگے تازہ گلاب

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    7 دسمبر, 2019

    مرے دل کو شوقِ فغاں نہیں

    ایک اردو غزل از خواجہ حیدر علی آتش
    26 جون, 2020

    کوئی فقیر یہ اے کاشکے دعا کرتا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 دسمبر, 2019

    میں کبھی دامِ محبت میں نہیں آیا ہوں

    ملک عتیق کی ایک غزل
    26 مئی, 2020

    رات بھر دیکھے پہاڑوں پہ برستے موسم

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    8 جون, 2020

    سوچتا ہوں

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    27 جون, 2025

    گزر گئے پلوں کو اب

    محمد شاہ زیب احمد کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    دعا آثار شمعیں دے گیا ہے

    ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا
    26 مئی, 2020

    خوشبوؤں سے کلام مت کرنا

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    14 مئی, 2020

    جب ذرا ہوش میں آؤں گا چلا جاؤں گا

    دو غزلہ از قلم سمیرؔ شمس
    21 جنوری, 2020

    ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے

    مومن خان مومن کی ایک عمدہ غزل
    18 مارچ, 2026

    تم ماتھے پہ بل ڈال کے جو بات کرو گی

    سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل
    24 جون, 2025

    مدتوں کے بعد بھی درکار ہے

    نمرہ علی کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    یہ اُداسی سدا بحال رہے

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button