25 جون, 2020

    آیا ہے ابر جب کا قبلے سے تیرا تیرا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 مئی, 2020

    مل گئی آپ کو فرصت کیسے

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    13 جون, 2020

    کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    17 دسمبر, 2019

    دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے

    مجید امجد کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    دل غموں کی لگاوٹوں میں تھا

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    21 جون, 2020

    وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی

    اقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    جی رشک سے گئے جو ادھر کو صبا چلی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 فروری, 2026

    ساری دنیا دیکھ رہی ہے، دیکھو ناں

    نبیل حاجب کی ایک اردو غزل
    7 اپریل, 2026

    دکھی ہے دل مرا لیکن غموں سے

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    29 مئی, 2020

    گزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھی

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    19 اکتوبر, 2025

    بستیاں ہو گئیں بے نام و نشاں راتوں رات

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    تبصرہ تھا مرے فسانے پر

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    طلسمی گیت جیسا

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    اک بار پھر وطن میں

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    16 جنوری, 2020

    وہ دوریوں کا رہِ آب پر نشان کھلا

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button