22 مئی, 2020

    آسماں کوئی جو تا حد نظر کھولتا ہے

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    24 جنوری, 2020

    ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے

    ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
    4 نومبر, 2025

    رخ سے پردہ ہٹا کے دیکھیں گے

    افضل شریف صائم کی ایک اردو غزل
    31 دسمبر, 2019

    جیسے بھی نام چاہے

    عمران عامی کی ایک اردو غزل
    10 نومبر, 2025

    وہ تجھ کو دے گا کھانا

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    22 مئی, 2020

    کلفت جاں سے دور دور، رنج و ملال سے جدا

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    20 دسمبر, 2020

    دنیا ترے خیال سے آباد کر چلے

    چشمہ فاروقی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    ذہن میں صورتِ گماں ٹھہری

    محسن نقوی کی اردو غزل
    26 مئی, 2020

    آئینہ توڑ دے رِہا کر دے

    ایوب خاور کی اردو غزل
    3 مارچ, 2020

    نظروں سے ہو گئی غلطی

    تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل
    11 مئی, 2020

    ڈرے ہوئے ہیں سبھی لوگ ابر چھانے سے

    اظہر فراغ کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2020

    بھلے غموں سے نڈھال بھی تھا

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    27 جون, 2025

    گزر گئے پلوں کو اب

    محمد شاہ زیب احمد کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button