سائٹ کا نقشہ
- کون روک سکتا ہے
- بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
- پُوچھ لو پھُول سے کیا کرتی ہے
- کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا
- جدید اردو ڈرامے کے خالق امتیاز علی تاجؔ
- طمانچہ
- ہر طرف رونقیں ہیں ، میلے ہیں
- ویلنٹائن ڈے
- کیا بادلوں میں سفر، زندگی بھر
- بول رے جی اب ساجن
- کچھ لکیریں روز نقشے سے مٹا دیتی ہے آگ
- بشارت ہو کہ اب مجھ سا کوئی پاگل نہ آئے گا
- یہ کسک دل کی دل میں چبھی رہ گئی
- ہم اپنے آپ سے بیگانے تھوڑی ہوتے ہیں
- ایسے دیکھا کہ دیکھا ہی نہ ہو
- دھیان میں وا دریچہء چشمِ کرم کیے ہوئے
- میں خاک ہوں، آب ہوں، ہوا ہوں
- آدمی کو خاک نے پیدا کیا
- ہم نوائی کی اُمید اے مرے فن کس سے کروں
- سلیمانِ سخن تو خیر کیا ہوں
- میرے دل کی راکھ کرید مت
- خدا کا شکر، سہارے بغیر بیت گئی
- توفیقِ علم و حلم و شرافت نہیں مجھے
- ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے
- موضوعِ گفتگو تری تقریر ہو گئی
- کماں بردوش و آہن پوش رہتا
- سوال ہی نہیں دنیا سے میرے جانے کا
- قلاش گو زمین پہ مجھ سا کوئی نہیں
- سو خلوص باتوں میں سب کرم خیالوں میں
- اگر یقیں نہیں آتا تو آزمائے مجھے
- ہے عجیب شہر کی زندگی
- یونہی بے سبب نہ پھرا کرو
- راکھ اڑتی ہے اب ہلالوں پر
- آگ لہرا کے چل رہے ہو اِسے آنچل کر دو
- تری تلاش میں نکلے ہوؤں کا حصّہ ہیں
- تم نے جو عہد کئے تھے وہ سبھی توڑے ہیں
- کیا بیابان، کیا نگر جاؤ
- ذہن میرا جِلا کے رُخ پر ہے
- مبادا اُس گلی میں جاؤں تو للکار دے کوئی
- وہ لب میری نظر کے سامنے ہے
- نہ سہ سکوں گا غمِ ذات گو اکیلا میں
- مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک
- گو کٹھن ہے طے کرنا عمر کا سفر تنہا
- ختم ہر اچھا بُرا ہو جائے گا
- کیا چاہیے نہ تھا یہ کبھی پوچھنا تمھیں
- خوار پھرتا ہوں جہاں میں
- کٹ چکی تھی یہ نظر سب سے بہت دن پہلے
- مجھے یہ جستجو کیوں ہو
- یہ خود کو دیکھتے رہنے کی ہے
- کسی شام چپکے سے در آئے گا
- جو سنتا ہوں کہوں گا میں
- یہ مت پوچھو کہ کیسا آدمی ہوں
- اگرچہ اُس سے بچھڑ کر لکھا بہت کچھ ہے
- دھوکا کریں، فریب کریں یا دغا کریں
- اسے آنکھوں کا نور کہتے ہیں
- میں بزمِ تصّور میں اُسے لائے ہوئے تھا
- میری قسمت کہ وہ اب ہیں میرے غمخواروں میں
- برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے
- نادم ہیں اپنی بُھول پہ ہم ، بُھول جائیے
- ٹوٹا طلسمِ وقت تو کیا دیکھتا ہوں میں
- اب ہیں وہ نا مرادیاں عشق کی تاب بھی نہیں
- مرے وجود کی جاگیر اس نے مانگی ہے
- خاص تھا لیکن جہاں میں عام رہنا تھا مجھے
- ہر کسی پر کھلا در سمجھ کر مجھے
- وہ جو مل جاتا تو اس سے بات کرنا تھی مجھے
- سفر سفر میں چلیں گے ،ترا خیال اور میں
- بفیض ِ شوق محبت ترا فسانہ کُھلا
- عجیب خواب اور عجب خیال دیکھتے ہوئے
- قدیم درد نیا واسطہ نہ بن جائے
- ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں
