آپ کا سلاماردو غزلیاترفیق لودھیشعر و شاعری

ہر کسی پر کھلا در سمجھ کر مجھے

ایک اردو غزل از رفیق لودھی

ہر کسی پر کھلا در سمجھ کر مجھے
درد آتے گئے گھر سمجھ کر مجھے

ہار اس کے گلے کا بنوں گا کبھی
جس نے چھوڑا ہے پتھر سمجھ کر مجھے

اس کی تصویر کا ایک حصّہ ہوں میں
دیکھتا ہے جو منظر، سمجھ کر مجھے

میرے سینے میں مہتاب اترتا گیا
آسماں کے برابر سمجھ کر مجھے

میں تو آساں بہت ہوں مگر پھر بھی تم
بھول جاتے ہو اکثر سمجھ کر مجھے

میں تو لودھی چمکتی ہوئی ریت ہوں
آزمامت سمندر سمجھ کر مجھے

رفیق لودھی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button