22 مئی, 2020

    حرف و صوت و صدا سے ملوایا

    فرحت زاہد کی ایک اردو غزل
    18 نومبر, 2019

    رُکتا بھی نہیں ٹھیک سے ، چلتا بھی نہیں ھے

    ایک غزل از نوشی گیلانی
    5 مارچ, 2020

    پیڑوں نے دھوپ سر پہ ہے

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
    21 جون, 2020

    اردوگرد دیواریں اور درمیاں چہرے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    9 جون, 2020

    اس طرف سے گزرے تھے قافلے بہاروں کے

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو غزل
    22 مئی, 2020

    کوئی حیرت ہے نہ اس بات کا رونا ہے ہمیں

    احمد خیال کی اردو غزل
    12 جنوری, 2020

    پتہ پتہ بوٹا بوٹا

    ایک اردو غزل از میر
    24 جون, 2020

    کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    30 جون, 2020

    طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    24 ستمبر, 2025

    نہ رنجشیں، نہ شکایت ہے

    منزہ سحر کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    بات یہ تیرے سوا اور بھلا کس سے کریں

    ایوب خاور کی اردو غزل
    8 نومبر, 2025

    گوارہ نہیں آج کل کی جدائی

    کویتا غزل مہرا کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    ہمیں جزیرہ ء امکان تک پہنچنا ہے

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    5 جولائی, 2025

    تمہارے ہجر کے ماتم

    احمد ابصار کی ایک اردو غزل
    17 فروری, 2026

    چنار کے نیچے بینچ رکھا

    لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button