آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریمحمد نعیم

پل بھر میں کیا ہو کوئی آگاہ تو نہیں

محمد نعیم کی اردو غزل

پل بھر میں کیا ہو کوئی آگاہ تو نہیں
وہ مجھ سے ملنے آرہا افواہ تو نہیں

ماتھے پہ ہے شکن اور گردن میں خم نہیں
لگتا یہ شخص راندہ درگاہ تو نہیں

اک اس کے ملنے سے میں اپنوں سے دور ہوں
میں اس سزا سے ہوتا آگاہ تو نہیں

تیرے نہ ہونے سے رہتا میں قفس میں ہوں
ہر ساتھ چلنے والا ہمنوا تو نہیں

تُو نے جبیں جھکائی ہے دوست اب جہاں
حاجت قبول ہو یہ درگاہ تو نہیں

خود کو میں نے ہے روکا جانے سے اس نگر
جس پر میں چل رہا ہوں وہ راہ تو نہیں

اس شب فراق میں آنکھیں بھر جو آئیں ہیں
رکھتا میں ساتھ کوئی ہمنوا تو نہیں

محمد نعیم

post bar salamurdu

محمد نعیم

مکمل نام:محمدنعیم- تخلص و قلمی نام:نعیم- جائے پیدائش: سیالکوٹ- تعلیم: بی ایس (سی ایس)، ایم بی اے (مارکیٹنگ & ہیومن ریسورس مینجمنٹ)- پیشہ : ٹیلی کام - ریجنل مینیجر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button