3 دسمبر, 2019

    عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

    محسن نقوی کی اردو غزل
    4 اپریل, 2026

    بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں میں

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    20 ستمبر, 2020

    کون جنوں کی اصل کو پہنچے

    اورنگ زیبؔ کی ایک اردو غزل
    3 ستمبر, 2024

    اک مہکتے گلاب جیسا ہے

    شبانہ یوسف کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2025

    تنقید کرتا ہوں

    محمد علی سوزؔ کی ایک اردو غزل
    16 نومبر, 2025

    یہ کیا کہ اک جہاں کو کرو وقفِ اضطراب

    غزل از صوفی غلام مصطفٰی تبسم
    22 جون, 2020

    اب دل ہے مقام بے کسی کا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    28 جولائی, 2020

    ذکر میرا تو خیالات سے پہلے بھی تھا

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    23 مئی, 2020

    میں وحشت و جنوں میں تماشا نہیں بنا

    احمد خیال کی اردو غزل
    5 اپریل, 2022

    کبھی اندھا کبھی بہرا

    ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل
    15 مئی, 2020

    تیری نگاہ لطف بھی ناکام ہی نہ ہو

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    14 نومبر, 2021

    گفتگو ایک سوکھی بیل کی ہے

    ایک اردو غزل از علی زیرک
    12 جون, 2020

    آ کبھی شام کے علاوہ بھی

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    10 دسمبر, 2025

    کیوں پوچھتے ہو کِس کا زمانا ہے

    ایک اردو غزل از عُظمی جٙون

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button