- Advertisement -

اس دنیا سے آگے جہان اور بھی ہے

اویس خالد کا ایک اردو کالم

اس دنیا سے آگے جہان اور بھی ہے

شکم مادر میں دو بچے تھے ۔ دونوں ایک دن آپس میں کچھ یوں گویا ہوئے.
ایک نے دوسرے سے سوال کیا ، "کیا آپ اس ذندگی کے بعد بھی کسی اور زندگی پر یقین رکھتے ھو؟ ”
دوسرے نے کہا ، "یقیناً اس کے بعد بھی کوئی نہ کوئی ذندگی تو ہوگی ، ممکن ھے کہ ہم یہاں اس لیے رہ رہے ہوں کہ خود کو آئندہ آنے والی زندگی کے لئے تیار کر لیں”
"میرا تو بالکل ایسا خیال نہیں” پہلا بولا ، بھلا وہ کس قسم کی زندگی ہو سکتی ہے۔جب کہ یہ ایک مکمل اور بھرپور زندگی لگ رہی ہے؟
دوسرے نے کہا ، "مجھے علم تو نہیں ، لیکن وہاں ، یہاں سے زیادہ روشنی ہوگی،وسعت ہو گی،نعمتیں ہوں گی،آسائشیں ہوں گی۔جدت ہو گی۔ہو سکتا ہے کہ ہم وہاں اپنے پیروں سے چل کر اس وسیع کائنت کو دیکھیں۔اور اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر خود منہ سے پسندیدہ غذائیں کھائیں جو مختلف ذائقے رکھتی ہیں۔ ممکن ھے کہ وہاں ہمارے پاس ایسے کئی حواس ہوں جن کے بارے میں ہمیں ابھی کچھ خبر نہیں ہے”
پہلے نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا ، "حد ہے حماقت کی بھی ، اپنے پاؤں سے چلنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اپنے ہاتھوں سے خود کھانا تو بالکل ہی نا ممکن ہے۔ انتہائی نا ممکن اور مضحکہ خیز! ۔ ناف سے جڑی نالی سے ہمیں ضرورت کی ہر چیز مل جاتی ہے۔اس کے علاوہ اور نہ کچھ ہے اور نہ ہمیں حاجت ہے۔اسی چھوٹی سی نالی سے ہماری زندگی وابستہ ہے اور جب یہ نالی ہمارے ساتھ نہ ہو گی تب زندگی کا وجود تو کیا تصور بھی محال ہے”
دوسرے نے کہا ، "بہرحال ! میرا خیال ہے کہ وہاں کچھ نہ کچھ ضرور ہے اور شاید یہاں سے مختلف بھی ہو۔ ممکن ہے کہ وہاں ہمیں خوراک کی اس نالی کی ضرورت ہی نہ رہے اور ہو سکتا ہے ہم وہاں کھلی ہوا میں سانس لیا کریں۔۔۔۔
پہلے نے کہا ، "بالکل فضول خیال ہے۔بھلا ہم تو پانی میں ڈوبے ہوئے رہ کر ہی سانس لے سکتے ہیں۔ پانی کی تھوڑی سی بھی کمی ہو تو ہماری جان جا سکتی ہے اور تم ہو کہ ہوا میں سانس لینے کی بات کر رہے ہو- اچھا چلو اگر مان بھی لیں تو اگر اس کے باہر بھی زندگی ہے تو کوئی کبھی وہاں سے واپس کیوں نہیں آیا؟کوئی آ کر ہم سے کبھی ملا کیوں نہیں؟؟؟؟ میری مان لو اور سمجھ لو کہ بس یہی زندگی ہے اس کے بعد کچھ نہیں” ۔
دوسرا بولا ، "خیر میں یہ سب نہیں جانتا لیکن مجھے یقین ہے کہ یہاں کی ذندگی مقررہ مدت بعد ختم ہونے کے بعد ہماری ملاقات ہماری ماں سے ہوگی۔باپ سے ہو گی اور دیگر محبت کرنے والے افراد سے ہو گی اور وہی ماں اور وہی باپ ھماری دیکھ بھال کریں گے”ہماری آمد پر کئی محبت کرنے والے خوشی سے ہمارا استقبال کریں گے۔وہ ایک کھلا جہان ہو گا اور ہماری آمد کی اطلاع بھی مجھے لگتا ہے پہلے ہی پہنچا دی جائے گی لہذا یقینا سب ہمارے منتظر ہوں گے۔
پہلا حیران ہوا، "ماں” ؟؟ وہ کون ہے؟؟؟کیا تم واقعی کسی ماں کے وجود پر یقین رکھتے ہو ؟ ارے اگر ماں وجود رکھتی ہے تو ابھی وہ کہاں ہے۔ملتی کیوں نہیں؟”
دوسرا بولا ، "مجھے لگتا ہے کہ ماں ہمارے چاروں طرف ہے ۔ ہر جانب۔ ہم بھی اسی کی وجہ سے ہیں۔ اس کے بغیر یہ دنیا جہاں ہم موجود ہیں ، وجود نہیں رکھ سکتی”
پہلا پھر اعتراض کرنے لگا ، "اگر ماں کا کہیں کوئی وجود ہوتا تو وہ مجھے نظر بھی آتی۔ مجھ سے بات بھی کرتی۔ اتنی چھپ کے نہ بیٹھی رہتی۔ اگر وہ ہم سے اتنا ہی پیار کرتی تو ہم کو ایسے تنہا نہ چھوڑتی۔ لہذا ! عقل یہی کہتی ہے کہ ماں کے وجود کا کوئی تصور نہیں ہے۔ سب ہمارے دماغ کی ذاتی اختراع ہے اور حقیت میں کچھ بھی نہیں ہے”
دوسرے نے جواب دیا ، "کبھی کبھی جب ہم خاموش ہوتے ہیں۔ توجہ دیتے ہیں اور سننے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں صاف اور واضح اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ کہیں دور سے اس کی محبت بھری آواز سنائی دیتی ہے۔ ہمیں اپنی دھڑکنوں کے ساتھ اس کی دھڑکن بھی محسوس ہوتی ہے۔ وہی ہماری ماں ہے۔ مجھے لگتا ہے بات صرف محسوس کرنے کی ہے”!
بس بالکل ایسا ہی ہمارا حال ہے اور ہم سے 70 ماؤں سے زیادره محبت کرنے والے ہمارے رب کریم کا ہے اور اسی طرح ابھی ہم اس زندگی کے بعد والی زندگی کا تصور نہیں کر پا رہے اگرچہ اس وقت ہمارے پاس علم و شعور اور عقل و فراست بھی ذیادہ ہے۔یاد رکھیے آئندہ ملنے والے کائنات اس سے بھی ذیادہ وسیع ہے اور اللہ پاک کی رحمت اور محبت سے مزین ہے۔بس یقین کرنے کی بات ہے۔اب یقین کر لیں گے تو آئندہ زندگی کی بہتری کی تیاری کر لیں گے ورنہ ایک دن یقین تو آ ہی جانا ہے۔اللہ پاک ہم سب کو فکر آخرت عطا فرمائے۔آمین

محمد اویس خالد

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
شیخ الاسلام مفتی عبد الہادی خان صاحب کانَ اللہ لہ‘