آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتارشاد نیازی

کبھی اندھا کبھی بہرا

ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل

کبھی اندھا کبھی بہرا کبھی گونگا بن کر
میں نے رشتوں کے تقدس کو نبھایا اکثر

دستِ معمار قلم کرنے کا بھی اذن ملا
جب ترے پاؤں کی خاطر بنا سنگِ مرمر

کون دن رات مرے صبر سے خائف ہے یہاں
کون دن رات مری راہ میں رکھے پتھر

نیند کو وصل کی نعمت یہ کہاں سونپے گا
مری آنکھوں میں ترے ہجر کا وحشی لشکر

منتظر کب سے کسی گھاٹ پہ اک دوشیزہ
اور مرے لب پہ گھنی پیاس کا سونا منظر

کیوں میں خوش رہنے کی ناکام اداکاری کروں
کیوں مرے گریے کی نسبت ہو پرایا کنکر

وہ تکلف کی اذیت نہ اٹھائے ارشاد
میرے ہاتھوں میں بصد شوق تھمائے خنجر

ارشاد نیازی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button