18 جنوری, 2020

    اب وہ اگلا سا التفات نہیں

    الطاف حسین حالی کی اردو غزل
    23 مئی, 2020

    بہت آسان تھا اس کی محبت کو دعا کرنا

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    20 نومبر, 2019

    ستم سکھلائے گا

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    20 دسمبر, 2019

    میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا

    فیصل عجمی کی ایک اردو نظم
    6 جنوری, 2023

    تو ہجرتوں کا زوال لکھ دے

    سمیرا ساجد کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2024

    کاش سمندر عشق

    غلام عباس ساغر کی ایک اردو غزل
    17 نومبر, 2019

    اب کسی سے مرا حساب نہیں

    جون ایلیا کی اردو غزل
    23 جون, 2020

    کوئی مختار اور کوئی مجبور

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2026

    قربتِ لمس کو گالی نہ بنا

    علی زریون کی ایک اردو غزل
    25 دسمبر, 2024

    تصور کی روشنی

    شاکرہ نندنی کی ایک اردو غزل
    25 اکتوبر, 2025

    مکتب ترا سرائے رئیس الامین ہے

    شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
    4 مئی, 2020

    ہمیشہ خیر رہے ، دن ہرے بھرے جائیں

    صائمہ آفتاب کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    زندگی اتنی گراں بار نہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 دسمبر, 2019

    چراغِ طور جلاؤ ! بڑا اندھیرا ہے

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button