14 اپریل, 2026

    لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

    ایک اردو غزل از رشید حسرت
    21 جون, 2020

    ترے حضور ہوں، فکر حیات ہے پھر بھی

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    18 جنوری, 2020

    یہ ہیں واعظ، سب پہ منہ

    الطاف حسین حالی کی اردو غزل
    7 جولائی, 2020

    بن کے دلدار ترے حق میں گواہی دی ہے

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    28 اکتوبر, 2020

    دل بصیرت، راز ہے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    نئی طرح سے نبھانے کی دل نے ٹھانی ہے

    محسن نقوی کی اردو غزل
    28 جون, 2020

    سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    25 مارچ, 2025

    ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ

    ایک غزل از منیر نیازی
    28 جون, 2020

    دل خوں ہوا ہمارا ٹکڑے ہوئے جگر کے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    14 ستمبر, 2025

    کبھی تو نے خود بھی سوچا

    اعتبار ساجد کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    دل فرط اضطراب سے سیماب سا ہوا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 مئی, 2020

    اداس شام دلِ سوگوار تنہائی

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    1 دسمبر, 2019

    ہم تو چلتے ہیں لو خدا حافظ

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    25 جنوری, 2020

    کچھ جو انہیں مجھ سے

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    29 ستمبر, 2025

    تجھے بھلا کے جیوں

    اعتبار ساجد کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button