1 جون, 2018

    دستکِ حرص پہ دروازہءِ شر کھلتا ہے

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    26 مئی, 2020

    اب کے ٹس سے مس نہیں ہونا ہوا کے زور پر

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    25 اکتوبر, 2025

    بات اپنی سنا کے دیکھوں گا

    محمد اویس ظافِر کی ایک اردو غزل
    1 دسمبر, 2019

    کبھی بن سنور کے جو آگئے تو بہار حسن دکھا گئے

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    24 مئی, 2020

    مرے خدا کسی صورت اسے ملا مجھ سے

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    3 جنوری, 2021

    شہر ویران کے دروازے سے لگ کر روئے

    فرحت عباس شاہ کی اردو غزل
    24 مئی, 2020

    کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    16 مئی, 2020

    زمانے پہ اپنا نشاں چھوڑ دوں گا

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    27 جون, 2020

    باغ گو سبز ہوا اب سر گلزار کہاں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    8 جون, 2024

    بجلی گرجی ،آندھی آئی

    غلام عباس ساغر کی ایک اردو غزل
    24 اکتوبر, 2025

    ناتوانی راستے کی فکر تھی

    زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
    17 دسمبر, 2021

    روبرو ہے آئنہ

    محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    فن ایسا ہو کہ کوزے میں

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    پِھر اُس کے بعد تو تنہائِیوں

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    5 مارچ, 2020

    رائیگاں گفتگو کو دفن کریں

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button