25 اکتوبر, 2025

    سمے کی راجدھانی سے نکل کر

    عدنان سرمد کی ایک اردو غزل
    24 جون, 2020

    مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    27 دسمبر, 2019

    جو تو نہیں تو مری

    سعود عثمانی کی اردو غزل
    26 اگست, 2025

    کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    27 جون, 2020

    اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 مئی, 2020

    خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    28 مئی, 2020

    فلم “ہجرت” کا تھیم ہیں ہم لوگ

    بہنام احمد کی ایک اردو غزل
    27 مئی, 2020

    خواب کے سحر سے بچا لیا جائے

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    1 دسمبر, 2019

    میں اپنے حصے کی تنہائی محفل سے نکالوں گا

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    3 جنوری, 2026

    سینے میں داغ ہے تپش انتظار کا

    آصف الدولہ کی ایک اردو غزل
    11 جنوری, 2025

    نیندوں کو جب خواب میں جوتا جاتا تھا

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    26 اپریل, 2020

    آنکھ پہ پٹی باندھ کے مجھ کو تنہا چھوڑ دیا ہے

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    16 اکتوبر, 2025

    ماورا وقت سے اور سود و زیاں سے آگے

    اظہر عباس خان کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    کیفی ہو کیوں تو ناز سے پھر گرم رہ ہوا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    11 جولائی, 2021

    اک بے وفا کی یاد سے لڑتے ہوئے مرے

    جاوید مہدی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button