2 فروری, 2020

    عقل کے بٹو ئے بناۓ ہیں مرے یاروں نے

    رانا عثمان احمر کی ایک اردو غزل
    31 مارچ, 2020

    وہ ملا تھا اور بس کچھ بھی نہیں

    ثمینہ گُل کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    یہ شہر کافر ہے یاں بہت

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    دل کو لکھوں ہوں آہ وہ کیا مدعا لکھوں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 مئی, 2020

    جب بیاں کرو گے تم، ہم بیاں میں نکلیں گے

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    21 جون, 2020

    مرحلے زیست کے آسان ہوئے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    25 مارچ, 2025

    رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا

    ایک غزل از منیر نیازی
    19 مئی, 2020

    لہجہ اُداس آنکھ میں پرچھائیں

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    23 مارچ, 2025

    خمارِ شب میں

    ایک غزل از منیر نیازی
    28 جون, 2020

    ظالم یہ کیا نکالی رفتار رفتہ رفتہ

    میر تقی میر کی ایک غزل
    7 دسمبر, 2025

    لا الہٰ پڑھتے ہوئے میری زباں رقص کرے

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    4 مارچ, 2025

    مصرع مصرع انتخاب ہے!

    انتخاب : ثمامہ بن خالد
    28 جون, 2020

    قوت کو پیرانہ سر دلی میں حیرانی ہوئی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 جنوری, 2020

    روشن ہیں دل کے داغ

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    26 اکتوبر, 2025

    تکلّم صد ملامت خیز سے

    فرید احمد کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button