اردو غزلیاتاکرام عارفیشعر و شاعری

گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے

اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے
دنیا چلتی ہے چند روٹیوں سے

دل میں آئے کوئی کھری عورت
یہ کنواں بھر گیا ہے کھوٹیوں سے

آپ کو خوف ہے نشیبوں کا
میں گرا ہوں بلند چوٹیوں سے

پیار عنقا ہے جب جہاں سے ملے
گوریوں کالیوں کلوٹیوں سے

آخری انجمن سجاؤں گا
نئے یاروں سے اور لنگوٹیوں سے

مہرباں سی دعا سلام اکرامؔ
بڑی بہنوں کی جیسے چھوٹیوں سے

اکرام عارفی

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button