اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ہم ذرے ہیں خاک رہگزر کے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہم ذرے ہیں خاک رہگزر کے
دیکھو ہمیں بام سے اتر کے

چپ ہو گئے یوں اسیر جیسے
جھگڑے تھے تمام بال و پر کے

اے باد سحر نہ چھیڑ ہم کو
ہم جاگے ہوئے ہیں رات بھر کے

شبنم کی طرح حیات کے خواب
کچھ اور نکھر گئے بکھر کے

جب ان کو خیال وضع آیا
انداز بدل گئے نظر کے

طوفاں کو بھی ہے ملال ان کا
ڈوبی ہیں جو کشتیاں اُبھر کے

حالات بتا رہے ہیں باقیؔ
ممنون نہ ہوں گے چارہ گر کے

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button