- Advertisement -

الٹی بساط میکدہ، جام ہوس چلے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

الٹی بساط میکدہ، جام ہوس چلے
ساقی کا خون پی لیں جورندوں کا بس چلے

ممکن ہے آ ملے کوئی گم گشتہ راہرو
تھوڑی سی دور اور صدائے جرس چلے

کیوں چھا رہی ہے بزم جہاں پر فسردگی
دو دن تو اور ساغر سوز نفس چلے

اے خالق بہار یہ کیسی بہار ہے
ہم اک تبسم گل تر کو ترس چلے

ہر سمت ہیں بہار پہ پہرے لگے ہوئے
باد صبا چلے تو قفس تا قفس چلے

یا اس طرح کسی کو پیام سفر نہ دے
یا ہم کو ساتھ لے کے صدائے جرس چلے

باقیؔ یہ اختلاف یہ نفرت یہ حادثے
ہم تو نہ ہوں جہاں میں جو دنیا کا بس چلے

باقیؔ وہی تپش ہے وہی رنگ و بو کی پیاس
کہنے کو جھوم جھوم کے بادل برس چلے

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل