4 مارچ, 2025

    شکستہ جسم مسلسل خراب ہوتے ہوئے

    ایک غزل از تسلیم اکرام
    3 ستمبر, 2024

    بدن میں برف بوتی جا رہی ہے

    شبانہ یوسف کی ایک اردو غزل
    29 ستمبر, 2019

    دل دکھوں کے حصار میں آیا

    عباس تابش کی ایک اردو غزل
    26 مئی, 2020

    جو آئینہ تیری صورت عکس دے نہ مجھے

    ایوب خاور کی اردو غزل
    5 نومبر, 2020

    کہاں سے چلے تھے کہاں آ گئے ہیں

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    13 دسمبر, 2021

    پرانی قبر سے جلتا چراغ اٹھانے سے

    ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل
    21 فروری, 2021

    پیار ہے ادھورا تو

    سید عدید کی ایک اردو غزل
    18 جون, 2020

    جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    11 اکتوبر, 2025

    یہ رنگ و نغمہ یہ خوشبو

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    28 مئی, 2020

    وہ آ کے لوٹ گیا ، کائنات ختم ہوئی

    بہنام احمد کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    کوئی ہو جس کو مرا انتظار کوئی نہیں

    بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل
    20 مارچ, 2026

    آپ کو وہ گزرا زمانہ تو یاد ہوگا

    پیر انتظار حسین مصور کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    بوئے خوں آتی ہے پیمانے سے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    16 دسمبر, 2019

    کوئی بھی دَور سرِ محفلِ

    مجید امجد کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    یہ رات ہجر کی یاں تک تو دکھ دکھاتی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button