- Advertisement -

ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہر طرف بکھرے ہیں رنگیں سائے
راہرو کوئی نہ ٹھوکر کھائے

زندگی حرف غلط ہی نکلی
ہم نے معنی تو بہت پہنائے

دامن خواب کہاں تک پھیلے
ریگ کی موج کہاں تک جائے

تجھ کو دیکھا ترے وعدے دیکھے
اونچی دیوار کے لمبے سائے

بند کلیوں کی ادا کہتی ہے
بات کرنے کے ہیں سو پیرائے

بام و در کانپ اٹھے ہیں باقیؔ
اس طرح جھوم کے بادل آئے

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل