5 مئی, 2020

    رٙنج و آلام سے نِکلوں گا تو مٙر جاؤں گا

    محمود کیفی کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    میرے دل کی راکھ کرید مت

    اردو غزل از بشیر بدر
    28 جون, 2020

    وہ رابطہ نہیں وہ محبت نہیں رہی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    25 جون, 2020

    یاں اپنی آنکھیں پھر گئیں پر وہ نہ آ پھرا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    30 دسمبر, 2019

    ہواؤں میں دلوں کا کارواں ہے

    ایک اردو غزل از الکا مشرا
    5 دسمبر, 2019

    بجھ گئی آگ ‘ سو میں اپنی تن آسانی کو

    ایک غزل از شہزاد نیّرؔ
    1 جون, 2020

    گر ہے تو لمحہ لمحہ یہی اک ملال ہے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    23 نومبر, 2019

    یارِ دیرینہ ہے پر روز ہے وہ یار نیا

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    14 نومبر, 2021

    چلو یہ مان لو چراغ تم ہو اور ہوا ہوں میں

    عمران سیفی کی اردو غزل
    1 اپریل, 2020

    مذکورہ تری بزم ميں کس کا نہيں آتا

    ابراہیم ذوق کی اردو غزل
    17 دسمبر, 2021

    وہ عنایت اگر نہ کرجاتا

    محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2022

    کبھی اندھا کبھی بہرا

    ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    زنگِ الم کا صیقل ہو

    میر حسن کی اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    غم موجود ہے

    ایک غزل از حفیظ جالندھری
    27 جون, 2020

    محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button